Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
162 - 608
دیکھیں  گے تو حسرت زدہ ہو کر کہیں  گے ’’کیا ہمیں  کچھ مہلت ملے گی اگرچہ پلک جھپکنے کے برابر ہی سہی تاکہ ہم ا یمان لے آ ئیں  ؟ان سے کہا جائے گا:اب تم سے عذاب مؤخر ہو گا اور نہ تمہیں  کوئی مہلت ملے گی۔(1)
{اَفَبِعَذَابِنَا: تو کیا ہمارے عذاب کو۔} جب نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے کفار کو اس عذاب کی خبر دی تو وہ مذاق اڑانے کے طور پر کہنے لگے کہ یہ عذاب کب آئے گا؟ اس پر اللہ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی نے ارشاد فرمایا کہ کیا وہ ہمارے عذاب کو جلدی مانگتے ہیں ؟ مراد یہ ہے کہ عذاب دیکھ کرکفار کا حال تو یہ ہو گا کہ وہ مہلت مانگتے پھریں  گے اس کے باوجو د وہ دنیا میں  عذاب نازل ہونے کی جلدی مچا رہے ہیں ، ان کے دونوں  طریقوں  میں  کتنا فرق ہے۔(2)
اَفَرَءَیْتَ اِنْ مَّتَّعْنٰهُمْ سِنِیْنَۙ(۲۰۵) ثُمَّ جَآءَهُمْ مَّا كَانُوْا یُوْعَدُوْنَۙ(۲۰۶) مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یُمَتَّعُوْنَؕ(۲۰۷)
ترجمۂکنزالایمان: بھلا دیکھو تو اگر کچھ برس ہم انہیں  برتنے دیں ۔ پھر آئے ان پر وہ جس کا وہ وعدہ دئیے جاتے ہیں ۔ تو کیا کام آئے گا ان کے وہ جو برتتے تھے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بھلا دیکھو توکہ اگر ہم کچھ سال انہیں  فائدہ اٹھانے دیں ۔پھر ان پر وہ (عذاب) آجائے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا۔ تو کیا وہ سامان ان کے کام آئے گا جس سے انہیں  فائدہ اٹھانے (کا موقع) دیا گیا تھا۔
{اَفَرَءَیْتَ: بھلا دیکھو تو۔} اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیات کا معنی یہ ہے کہ کفار کا عذاب نازل ہونے کی جلدی مچانے کا ایک سبب ان کا یہ عقیدہ ہے کہ انہیں  کوئی عذاب نہیں  ہو گا اور وہ ایک طویل عرصے تک امن و سلامتی کے ساتھ دنیا سے فائدہ اٹھاتے رہیں  گے۔ اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا کہ ان کے عقیدے کے مطابق اگر انہیں  لمبے عرصے تک دنیا سے فائدہ اٹھانے کا موقع مل جائے، ا س کے بعد ان پر وہ عذاب آ جائے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا تو اس وقت ان کی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…جمل، الشعراء، تحت الآیۃ: ۲۰۱-۲۰۳، ۵/۴۱۰۔
2…خازن، الشعراء، تحت الآیۃ: ۲۰۴، ۳/۳۹۶، تفسیرکبیر، الشعراء، تحت الآیۃ: ۲۰۴، ۸/۵۳۴، ملتقطًا۔