کسی کے بارے میں عناد بھرا ہوا ہو وہ اس کے اعتراضات کے جتنے بھی تسلی بخش جوابات دے لے اور حق بات پر جتنے بھی ایک سے ایک دلائل پیش کر دے عناد رکھنے والے کے حق میں سب بے سود ہوتے ہیں اور عناد رکھنے والاان سے کوئی فائدہ اٹھاتا ہے اور نہ ہی ان کی وجہ سے حق بات کو قبول کرتا ہے۔ یہی چیز ہمارے معاشرے میں بھی پائی جاتی ہے کہ ایک مرتبہ جس شخص کے بارے میں دشمنی دل میں بیٹھ جائے تو ا س پر طرح طرح کے بیہودہ اعتراضات شروع کر دئیے جاتے ہیں اور وہ اپنی صداقت و صفائی پر جتنے چاہے دلائل پیش کرے اسے ماننے پر تیار نہیں ہوتے۔ اللہ تعالٰی ایسے لوگوں کو عقلِ سلیم اور ہدایت عطافرمائے،اٰمین۔
{ كَذٰلِكَ: یونہی۔} یعنی ہم نے اسی طرح ان کافروں کے دلوں میں اس قرآن کے جھٹلانے کو داخل کردیا ہے جن کا کفر اختیار کرنا اور اس پر مُصِر رہنا ہمارے علم میں ہے، تو اُن کے لئے ہدایت کا کوئی بھی طریقہ اختیار کیا جائے کسی حال میں وہ کفر سے پلٹنے والے نہیں ۔(1)
لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَۙ(۲۰۱) فَیَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَۙ(۲۰۲) فَیَقُوْلُوْا هَلْ نَحْنُ مُنْظَرُوْنَؕ(۲۰۳) اَفَبِعَذَابِنَا یَسْتَعْجِلُوْنَ(۲۰۴)
ترجمۂکنزالایمان: وہ اس پر ایمان نہ لائیں گے یہاں تک کہ دیکھیں دردناک عذاب۔ تو وہ اچانک ان پر آجائے گا اور انہیں خبر نہ ہوگی۔تو کہیں گے کیا ہمیں کچھ مہلت ملے گی۔ تو کیا ہمارے عذاب کی جلدی کرتے ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: وہ اس پر ایمان نہ لائیں گے یہاں تک کہ دردناک عذاب دیکھ لیں ۔ تو وہ (عذاب) اچانک ان پر آجائے گا اور انہیں خبر (بھی) نہ ہوگی۔ پھرکہیں گے: کیا ہمیں کچھ مہلت ملے گی؟تو کیا ہمارے عذاب کو جلدی مانگتے ہیں؟
{لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ: وہ اس پر ایمان نہ لائیں گے۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ کفارِ مکہ قرآن پر ایمان نہ لائیں گے یہاں تک کہ ان پر اچانک عذاب آ جائے گا اور انہیں ا س کی خبر بھی نہ ہوگی اور جب وہ عذاب کو
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۲۰۰، ص۸۳۲۔