(1)…حضرت ثوبان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’میں اپنی امت میں سے ان لوگوں کو جانتا ہوں کہ جب وہ قیامت کے دن آئیں گے تو ان کی نیکیاں تہامہ کے پہاڑوں کی مانند ہوں گی لیکن اللہ تعالٰی انہیں روشندان سے نظر آنے والے غبار کے بکھرے ہوئے ذروں کی طرح (بے وقعت) کر دے گا۔حضرت ثوبان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی: یا رسولَ اللہ !صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، ہمارے سامنے ان لوگوں کا صاف صاف حال بیان فرما دیجئے تاکہ ہم جانتے ہوئے ان لوگوں میں شریک نہ ہو جائیں ۔سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’وہ تمہارے بھائی، تمہارے ہم قوم ہوں گے، راتوں کو تمہاری طرح عبادت کیا کریں گے، لیکن وہ لوگ تنہائی میں برے اَفعال کے مُرتکب ہوں گے۔(1)
(2)…حضرت ابو حذیفہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے آزاد کردہ غلام حضرت سالِم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’قیامت کے دن کچھ لوگ ایسے آئیں گے کہ ان کے پاس تہامہ کے پہاڑوں کے برابر نیکیاں ہو ں گی،یہاں تک کہ جب انہیں لایا جائے گا تو اللہ تعالٰی ان کے اعمال کو روشندان سے نظر آنے والے غبار کے بکھرے ہوئے ذروں کی طرح (بے وقعت) کر دے گا،پھر انہیں جہنم میں ڈال دے گا۔ حضرت سالِم نے عرض کی: یا رسولَ اللہ !صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، میرے ماں باپ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر قربان ہو جائیں ! ہمیں ان لوگوں کا حال بتا دیجئے ؟ارشاد فرمایا:’’وہ لوگ نماز پڑھتے ہوں گے، روزے رکھتے ہوں گے، نیند سے بیدار ہو کر راتوں کو قیام کرتے ہوں گے لیکن جب ان کے سامنے کوئی حرام چیز پیش کی جائے تو وہ اس پر کود پڑتے ہوں گے، تو اللہ تعالٰی ان کے اعمال باطل فرما دے گا۔(2)
اللہ تعالٰی ہمیں اپنی اصلاح کرنے اور قیامت کے دن اعمال باطل ہوجانے والوں میں شامل ہونے سے محفوظ فرمائے،اٰمین۔
اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ یَوْمَىٕذٍ خَیْرٌ مُّسْتَقَرًّا وَّ اَحْسَنُ مَقِیْلًا(۲۴)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ابن ماجہ، کتاب الزہد، باب ذکر الذنوب، ۴/۴۸۹، الحدیث: ۴۳۴۵۔
2…حلیۃ الاولیاء، ذکر الصحابۃ من المہاجرین، سالم مولی ابی حذیفۃ، ۱/۲۳۳، الحدیث: ۵۷۵۔