Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
158 - 608
 ہے تو تمام اعضاء پر اس کا اثر پڑتا ہے، پس دل ایک رئیس کی طرح ہے اور وہی عقل کا مقام ہے تو وہ امیر ِمُطلَق ہوا اور مکلف ہوناجو کہ عقل و فہم کے ساتھ مشروط ہے، اسی کی طرف لوٹا۔
{لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ: تاکہ تم ڈر سنانے والوں  میں  سے ہوجاؤ۔} یہاں  قرآن پاک کو نازل کرنے کی حکمت اور مَصلحت بیان کی جار ہی ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ پر قرآن پاک اس لئے نازل ہوا تاکہ آپ اس کے ذریعے اپنی امت کو ان کاموں  سے ڈرائیں  جنہیں  کرنے یا نہ کرنے سے وہ عذاب میں  مبتلا ہو سکتے ہیں ۔ 
بِلِسَانٍ عَرَبِیٍّ مُّبِیْنٍؕ(۱۹۵) وَ اِنَّهٗ لَفِیْ زُبُرِ الْاَوَّلِیْنَ(۱۹۶)
ترجمۂکنزالایمان: روشن عربی زبان میں ۔اور بیشک اس کا چرچا اگلی کتابوں  میں  ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: روشن عربی زبان میں ۔اور بیشک اس کا ذکر پہلی کتابوں  میں  موجودہے۔
{بِلِسَانٍ: زبان میں ۔} یعنی قرآنِ پاک کو عربی زبان میں  نازل کیا جس کے معنی ظاہر اور الفاظ کی اپنے معنی پر دلالت واضح ہے تاکہ عرب کے رہنے والوں  اور کفارِ قریش کے لئے کوئی عذر باقی نہ رہے اور وہ یہ نہ کہہ سکیں  کہ ہم اس کلام کو سن کر کیا کریں  گے جسے ہم سمجھ ہی نہیں  سکتے۔(1)
عربی زبان کی فضیلت:
	اس آیت سے عربی زبان کی دیگر زبانوں  پر فضیلت بھی ثابت ہوئی کیونکہ اللہ تعالٰی نے قرآنِ پاک کو عربی زبان میں  نازل فرمایا ہے کسی اور زبان میں  نہیں ۔ حضرت عبداللہ بن عباس  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’تین وجہوں  سے عربوں  سے محبت رکھو،کیونکہ میں  عربی ہوں ، قرآن عربی ہے اور اہلِ جنت کی زبان بھی عربی ہے۔(2)
	حضرت فقیہ ابو لیث سمرقندی  رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’جان لو کہ عربی زبان تمام زبانوں  سے افضل ہے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…روح البیان، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۹۵، ۶/۳۰۶۔
2…معجم الاوسط، باب المیم، من اسمہ: محمد، ۴/۱۶۴، الحدیث: ۵۵۸۳۔