Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
157 - 608
 کے سپرد فرمائی ہے۔(1)
 قرآنِ مجید کے بارے میں  ایک عقیدہ:
	یاد رہے کہ قرآن پاک اللہ تعالٰی کا کلام ہے اور اس کی صفت ہے جو ا س کی ذات کے ساتھ قائم ہے۔ اللہ تعالٰی نے اس کلام کو عربی الفاظ کے لبادے میں  حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام پر نازل فرمایا اور انہیں  ان الفاظ پر امین بنایا تاکہ وہ اس کے حقائق میں  تَصَرُّف نہ کریں ،اس کے بعد حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام نے ان الفاظ کوحضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے قلب ِاَطہر پر نازل کیا۔(2)
عَلٰى قَلْبِكَ لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ(۱۹۴)
ترجمۂکنزالایمان: تمہارے دل پر کہ تم ڈر سناؤ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تمہارے دل پرتاکہ تم ڈر سنانے والوں  میں  سے ہوجاؤ۔
{عَلٰى قَلْبِكَ: تمہارے دل پر۔} یعنی اے پیارے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام نے آپ کے سامنے ا س قرآن کی تلاوت کی، یہاں  تک کہ آپ نے اسے اپنے دل میں  یاد کر لیا کیونکہ دل ہی کسی چیز کو یاد رکھنے اور اسے محفوظ رکھنے کا مقام ہے،وحی اور اِلہام کا مَعدِن ہے اور انسان کے جسم میں  دل کے علاوہ اور کوئی چیز خطاب اور فیض کو قبول کرنے کی صلاحیت نہیں  رکھتی۔(3) نیز اس لئے کہ آپ اسے محفوظ رکھیں  اور سمجھیں  اور نہ بھولیں ۔ دل کی تخصیص اس لئے ہے کہ درحقیقت وہی مخاطب ہے اور تمیز،عقل اور اختیار کا مقام بھی وہی ہے، تمام اَعضاء اس کے آگے مسخر اور اطاعت گزارہیں ۔ حدیث شریف میں  ہے کہ دل کے درست ہونے سے تمام بدن درست ہوجاتا اور اس کے خراب ہونے سے سب جسم خراب ہو جاتا ہے، نیز فَرحت و سُرُور اوررنج و غم کا مقام دل ہی ہے، جب دل کو خوشی ہوتی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۹۳، ۳/۳۹۵، تفسیرکبیر، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۹۳، ۸/۵۳۰، روح البیان، الشعراء، تحت الآیۃ:۱۹۳، ۶/۳۰۶، ملتقطاً۔
2…روح البیان، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۹۳، ۶/۳۰۶۔
3…روح البیان، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۹۴، ۶/۳۰۶۔