Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
159 - 608
تو جس نے عربی زبان خود سیکھی یا کسی اور کو سکھائی اسے اجر ملے گا کیونکہ اللہ تعالٰی نے قرآن پاک کو عربی زبان میں  نازل فرمایا ہے۔(1)
{وَ اِنَّهٗ: اور بیشک اس کا۔} اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ قرآن پاک کا ذکر تمام آسمانی کتابوں  میں  موجود ہے اور دوسری تفسیر یہ ہے کہ سابقہ کتابوں  میں  نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نعت اور صفت مذکور ہے۔(2)
اَوَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ اٰیَةً اَنْ یَّعْلَمَهٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ(۱۹۷)
ترجمۂکنزالایمان: اور کیا یہ ان کے لیے نشانی نہ تھی کہ اس نبی کو جانتے ہیں  بنی اسرائیل کے عالم۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور کیا یہ بات ان کے لیے نشانی نہ تھی کہ اس نبی کو بنی اسرائیل کے علماء جانتے ہیں ۔
{اَوَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ اٰیَةً: اور کیا یہ بات ان کے لیے نشانی نہ تھی۔} یہاں  کفارِ مکہ پر ایک اور حجت بیان کی گئی کہ کیا یہ بات کفارِ مکہ کے لیے نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نبوت و رسالت کی صداقت پر نشانی نہ تھی کہ اس نبی کو بنی اسرائیل کے علماء اپنی کتابوں  سے جانتے ہیں  اور لوگوں  کو ان کی خبریں  دیتے ہیں ۔ حضرت عبداللہ بن عباس  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں  کہ اہلِ مکہ نے مدینہ کے یہودیوں کے پاس اپنے با اعتماد بندوں  کو یہ دریافت کرنے بھیجا کہ کیا نبی آخر الزَّمان، سیّد ِکائنات، محمد مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بارے میں  اُن کی کتابوں  میں  کوئی خبر ہے ؟اس کا جواب یہودی علماء نے یہ دیا کہ یہی ان کا زمانہ ہے اور اُن کی نعت و صفت توریت میں  موجود ہے۔‘‘یاد رہے کہ یہودی علماء میں  سے حضرت عبداللہ بن سلام، ابنِ یامین، ثعلبہ، اسد اور اُسید،یہ حضرات جنہوں  نے توریت میں  حضور اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اوصاف پڑھے تھے حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لے آئے تھے۔(3)
وَ لَوْ نَزَّلْنٰهُ عَلٰى بَعْضِ الْاَعْجَمِیْنَۙ(۱۹۸) فَقَرَاَهٗ عَلَیْهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…روح البیان، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۹۵، ۶/۳۰۷۔
2…مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۹۶، ص۸۳۱، خازن، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۹۶، ۳/۳۹۵، ملتقطاً۔
3…خازن، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۹۷، ۳/۳۹۵، ملخصاً۔