Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
156 - 608
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور بیشک یہ قرآن ربُّ العالمین کا اتارا ہوا ہے۔
{وَ اِنَّهٗ: اور بیشک یہ قرآن۔} انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے واقعات بیان کرنے کے بعد یہاں  سے اللہ تعالٰی نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نبوت و رسالت پر دلالت کرنے والی چیز کاذکر فرمایاہے، چنانچہ ارشاد فرمایا کہ یہ قرآن سب جہانوں  کے رب تعالٰی کا اتارا ہوا ہے کسی شاعر، جادو گر یا کاہن کا کلام نہیں  جیسا کہ اے کفار تم گمان کرتے ہو۔(1)
نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُۙ(۱۹۳)
ترجمۂکنزالایمان: اسے روحُ الا مین لے کر اترا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اسے روحُ الا مین لے کر نازل ہوئے۔
{نَزَلَ بِهِ: اسے لے کر نازل ہوئے۔} قرآن پاک کو روح الا مین یعنی حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام لے کر نازل ہوئے۔
 حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام کو روح اور امین کہنے کی وجوہات:
	 حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام کو روح کہنے کی ایک وجہ مفسرین نے یہ بیان کی ہے کہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام روح سے پیدا کئے گئے ہیں  اس لئے آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو روح کہا گیا۔دوسری وجہ یہ بیان کی ہے کہ جس طرح روح بدن کی زندگی کا سبب ہوتی ہے اسی طرح حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام مکلف لوگوں  کے دلوں  کی زندگی کا سبب ہیں  کیونکہ علم اور معرفت کے نور سے دل زندہ ہوتے ہیں  جبکہ بے علمی اور جہالت سے مردہ ہو تے ہیں  اورحضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام کے ذریعے وحی نازل ہوتی ہے جس سے اللہ تعالٰی کی ذات اور صفات کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور اس معرفت کے ذریعے بے علمی اور جہالت کی وجہ سے مردہ ہو جانے والے د ل زندہ ہوجاتے ہیں ، ا س لئے آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو روح فرمایا گیا اور آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو امین ا س لئے کہتے ہیں  کہ اللہ تعالٰی نے انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تک اپنی وحی پہنچانے کی امانت ان
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تفسیرکبیر، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۹۲، ۸/۵۳۰،  صاوی، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۹۲، ۴/۱۴۷۴، ملتقطاً۔