Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
154 - 608
 جیسے ایک آدمی ہی ہواور تم نے جونبوت کا دعویٰ کیا بے شک ہم تمہیں  اس میں  جھوٹا سمجھتے ہیں ۔ اگر تم نبوت کے دعوے میں  سچے ہو تو اللہ تعالٰی سے دعا کرو کہ وہ عذاب کی صورت میں  ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دے۔(1)
{وَ مَاۤ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا: تم تو ہمارے جیسے ایک آدمی ہی ہو۔} صدر الافاضل مفتی نعیم الدین مراد آبادی  رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’نبوت کا انکار کرنے والے اَنبیاء( عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام )کی نسبت میں  بِالعموم یہی کہا کرتے تھے۔ جیسا کہ آج کل کے بعض فاسد العقیدہ کہتے ہیں ۔(2)
قَالَ رَبِّیْۤ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ(۱۸۸)فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمْ عَذَابُ یَوْمِ الظُّلَّةِؕ-اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ(۱۸۹)
ترجمۂکنزالایمان: فرمایا میرا رب خوب جانتا ہے جو تمہارے کوتک ہیں ۔تو انہوں  نے اسے جھٹلایا تو انہیں  شامیانے والے دن کے عذاب نے آلیا بیشک وہ بڑے دن کا عذاب تھا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:  شعیب نے فرمایا :میرا رب تمہارے اعمال کوخوب جانتا ہے۔تو انہوں  نے اسے جھٹلایا تو انہیں  شامیانے والے دن کے عذاب نے پکڑلیا بیشک وہ بڑے دن کا عذاب تھا۔
{قَالَ: فرمایا۔} حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ان لوگوں  کا جواب سن کر ان سے فرمایا :میرا رب عَزَّوَجَلَّ  تمہارے اعمال کو اور جس عذاب کے تم مستحق ہو اسے خوب جانتا ہے، وہ اگر چاہے گا تو آسمان کا کوئی ٹکڑ اتم پر گرا دے گایاتم پر کوئی اور عذاب نازل کرنا اس کی مَشِیَّت میں  ہو گا تو میرا رب عَزَّوَجَلَّ وہ عذاب تم پر نازل فرمادے گا۔(3)
{فَكَذَّبُوْهُ: تو انہوں  نے اسے جھٹلایا۔} ارشاد فرمایا کہ جنگل والوں  نے حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلایا تو انہیں  شامیانے کے دن کے عذاب نے پکڑلیا، بیشک وہ بڑے دن کا عذاب تھا جو کہ اس طرح ہوا کہ انہیں  شدید گرمی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مدارک، الشعراء،تحت الآیۃ:۱۸۵-۱۸۷،ص۸۳۰، روح البیان، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۸۵-۱۸۷، ۶/۳۰۴، ملتقطاً۔
2…خزائن العرفان، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۸۶، ص۶۹۵۔
3…مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۸۸، ص۸۳۰۔