سے تولو۔ اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم کرکے نہ دو اور زمین میں فساد پھیلاتے نہ پھرو۔ اور اس سے ڈرو جس نے تمہیں اور پہلی مخلوق کوپیدا کیا۔
{اَوْفُوا الْكَیْلَ: (اے لوگو!) ناپ پورا کرو۔} اس آیت اور اس کے بعد والی3 آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ ناپ تول میں کمی کرنا،لوگوں کو ان کی چیزیں کم کر کے دینا،رہزنی اور لوٹ مار کرکے اور کھیتیاں تباہ کرکے زمین میں فساد پھیلانا ان لوگوں کی عادت تھی اس لئے حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے انہیں ان کاموں سے منع فرمایا اور ناپ تول پورا کرنے کا حکم دیا اور اس کے بعدساری مخلوق کو پیدا کرنے والے رب تعالٰی کے عذاب سے ڈرایا۔
اس سے معلوم ہوا کہ نبی عَلَیْہِ السَّلَام صرف عبادات ہی سکھانے نہیں آتے بلکہ اعلیٰ اَخلاق، سیاسیات، معاملات کی درستگی کی تعلیم بھی دیتے ہیں ۔ اللہ تعالٰی ہمیں بھی عمل کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَۙ(۱۸۵) وَ مَاۤ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا وَ اِنْ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الْكٰذِبِیْنَۚ(۱۸۶) فَاَسْقِطْ عَلَیْنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَؕ(۱۸۷)
ترجمۂکنزالایمان: بولے تم پر جادو ہوا ہے۔تم تو نہیں مگر ہم جیسے آدمی اور بیشک ہم تمہیں جھوٹا سمجھتے ہیں ۔تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دو اگر تم سچے ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: قوم نے کہا: (اے شعیب!) تم تو ان میں سے ہو جن پر جادو ہوا ہے۔ تم تو ہمارے جیسے ایک آدمی ہی ہواور بیشک ہم تمہیں جھوٹوں میں سے سمجھتے ہیں ۔ تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دو اگر تم سچے ہو۔
{قَالُوْۤا: قوم نے کہا۔} اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ لوگوں نے حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی نصیحت سن کر کہا:اے شعیب!تم تو ان لوگوں میں سے ہو جن پر جادو ہوا ہے اورتم کوئی فرشتے نہیں بلکہ ہمارے