کردے۔(1) دوسری تفسیر یہ ہے،حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا: ’’فرشتے (ان کفار سے) کہیں گے کہ مومن کے سوا کسی کے لئے جنت میں داخل ہونا حلال نہیں ۔ (تو کافروں اور جنت کے درمیان روکی ہوئی آڑ ہے۔)(2) اسی لئے وہ دِن کفار کے لئے انتہائی حسرت و ندامت اور رنج وغم کا دن ہوگا۔
وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰهُ هَبَآءً مَّنْثُوْرًا(۲۳)
ترجمۂکنزالایمان: اور جو کچھ انہوں نے کام کیے تھے ہم نے قصد فرماکر انہیں باریک باریک غبار کے بکھرے ہوئے ذرّے کردیا کہ روزن کی دھوپ میں نظر آتے ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور انہوں نے جو کوئی عمل کیا ہوگا ہم اس کی طرف قصد کرکے باریک غبار کے بکھرے ہوئے ذروں کی طرح بنادیں گے جو روشندان کی دھوپ میں نظر آتے ہیں ۔
{فَجَعَلْنٰهُ هَبَآءً مَّنْثُوْرًا: تو ہم اسے باریک غبار کے بکھرے ہوئے ذروں کی طرح بنادیں گے۔} آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ کفار نے کفر کی حالت میں جو کوئی ظاہری اچھے عمل کیے ہوں گے جیسے صدقہ، صلہ رحمی، مہمان نوازی اور یتیموں کی پرورش وغیرہ، اللہ تعالٰی ان کی طرف قصد کرکے روشندان کی دھوپ میں نظر آنے والے باریک غبار کے بکھرے ہوئے ذروں کی طرح انہیں بے وقعت بنادے گا۔ مراد یہ ہے کہ وہ اعمال باطل کردیئے جائیں گے، ان کا کچھ ثمرہ اور کوئی فائدہ نہ ہو گاکیونکہ اعمال کی مقبولیت کے لئے ایمان شرط ہے اور وہ انہیں مُیَسَّر نہ تھا۔(3)
قیامت کے دن کچھ مسلمانوں کے اعمال بے وقعت کر دئیے جائیں گے:
اس آیت میں قیامت کے دن کفار کے اعمال باطل ہونے کا ذکرکیا گیا ہے جبکہ اَحادیث میں بعض ایسے مومنین کا ذکر بھی کیا گیا ہے جن کے اعمال قیامت کے دن بے وقعت کر دئیے جائیں گے۔ چنانچہ اس سلسلے میں یہاں دو اَحادیث ملاحظہ ہوں ،
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…روح البیان، الفرقان، تحت الآیۃ: ۲۲، ۶/۲۰۱۔
2…خازن، الفرقان، تحت الآیۃ: ۲۲، ۳/۳۷۰۔
3…جلالین، الفرقان، تحت الآیۃ: ۲۳، ص۳۰۴-۳۰۵، ملخصاً۔