ترجمۂکنزالایمان: اور اسے برائی کے ساتھ نہ چھوؤ کہ تمہیں بڑے دن کا عذاب آلے گا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور تم اس اونٹنی کو برائی کے ساتھ نہ چھوناورنہ تمہیں بڑے دن کا عذاب پکڑ لے گا۔
{وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ: اور تم اس اونٹنی کو برائی کے ساتھ نہ چھونا۔} حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اس اونٹنی کے بارے میں مزید فرمایا کہ تم اس اونٹنی کو برائی کے ساتھ نہ چھونا،نہ اس کو مارنا اور نہ اس کے پاؤں کی رگیں کاٹنا ورنہ تمہیں بڑے دن کا عذاب پکڑ لے گا۔ اس دن کوعذاب نازل ہونے کی وجہ سے بڑا فرمایا گیا تاکہ معلوم ہو کہ وہ عذاب اس قدر عظیم اور سخت تھا کہ جس دن میں وہ واقع ہوا اس کو اس کی وجہ سے بڑا فرمایا گیا۔(1)
فَعَقَرُوْهَا فَاَصْبَحُوْا نٰدِمِیْنَۙ(۱۵۷)
ترجمۂکنزالایمان: اس پر انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں پھر صبح کو پچتاتے رہ گئے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو انہوں نے اس کے پاؤں کی رگیں کاٹ دیں پھرصبح کو پچھتاتے رہ گئے۔
{فَعَقَرُوْهَا: تو انہوں نے اس کے پاؤں کی رگیں کاٹ دیں ۔} ارشاد فرمایا کہ انہوں نے حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کے سمجھانے کے باوجوداس اونٹنی کے پاؤں کی رگیں کاٹ دیں تو صبح کو پچھتاتے رہ گئے۔ پاؤں کی رگیں کاٹنے والے شخص کا نام قدار تھا اور چونکہ لوگ اس کے اس فعل سے راضی تھے اس لئے پاؤں کی رگیں کاٹنے کی نسبت ا ن سب کی طرف کی گئی اور ان کا پچھتانا پاؤں کی رگیں کاٹ دینے پر عذاب نازل ہونے کے خوف سے تھا، نہ کہ وہ مَعصِیَت پر توبہ کرتے ہوئے نادم ہوئے تھے یا وہ عذاب کا مُعایَنہ کر کے نادم ہوئے تھے اور ایسے وقت کی ندامت کا کوئی فائدہ نہیں ۔(2)
فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةًؕ-وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(۱۵۸)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۵۶، ص۸۲۸۔
2…مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۵۷، ص۸۲۸۔