Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
143 - 608
ترجمۂکنزالایمان:  تو انہیں  عذاب نے آلیا بیشک اس میں  ضرور نشانی ہے اور ان میں  بہت مسلمان نہ تھے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو انہیں  عذاب نے پکڑلیا، بیشک اس میں  ضرور نشانی ہے اور ان کے اکثر لوگ مسلمان نہ تھے۔
{فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ:  تو انہیں  عذاب نے پکڑلیا۔} یعنی جس عذاب کی انہیں  خبر دی گئی تھی اس نے انہیں  پکڑ لیا اوروہ لوگ ہلاک ہو گئے۔ قومِ ثمود پر آنے والے عذاب میں  ضرور عبرت کی نشانی ہے کہ نبی عَلَیْہِ السَّلَام کی صداقت پر نشانی ظاہر ہو جانے کے بعد بھی کفر پر قائم رہنا عذاب نازل ہونے کا سبب ہے اور حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی انتہائی تبلیغ کے باوجود بہت تھوڑے لوگ ان پر ایمان لائے۔(1)    تو اے پیارے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اگر آپ پر سارے عرب والے ایمان نہ لائیں  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ غم نہ فرمائیں ، اس کی وجہ یہ نہیں  کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تبلیغ میں  کوتاہی ہے بلکہ یہ خود بد نصیب ہیں ۔
وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠(۱۵۹)
ترجمۂکنزالایمان: اور بیشک تمہارا رب ہی عزت والا مہربان ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور بیشک تمہارا رب ہی غلبے والا، مہربان ہے۔
{وَ اِنَّ رَبَّكَ: اور بیشک تمہارا رب۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، بیشک آپ کا رب عَزَّوَجَلَّ ہی کافروں  پر عذاب نازل کرنے میں  غلبے والا اور ایمان لانے والوں  کو نجات دے کر ان پر مہربانی فرمانے والا ہے جیسا کہ قومِ ثمود نے حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلایا تو اللہ تعالٰی نے ان پر ایساعذاب نازل فرمایا جس نے انہیں  جڑ سے اکھاڑ کر رکھ دیا، اس لئے سابقہ قوموں  کے عذابات کو پیش ِنظر رکھتے ہوئے آپ کے حکم کی مخالفت کرنے والوں  کو بھی اللہ تعالٰی کے عذاب سے ڈرنا چاہئے۔(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…روح البیان، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۵۸، ۶/۳۰۰۔
2…روح البیان، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۵۹، ۶/۳۰۰۔