Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
141 - 608
ترجمۂکنزُالعِرفان: قوم نے کہا: تم ان میں  سے ہو جن پر جادو ہوا ہے۔ تم تو ہم جیسے ہی ایک آدمی ہو، اگرتم سچے ہو تو کوئی نشانی لاؤ۔
{قَالُوْۤا: قوم نے کہا۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ قومِ ثمود نے حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی نصیحتوں  کے جواب میں  کہا ’’تم ان میں  سے ہو جن پر بار بار بکثرت جادو ہوا ہے جس کی وجہ سے عقل و حواس قائم نہیں  رہے۔ (مَعَاذَ اللہ) تم تو ہم جیسے ہی ایک آدمی ہو کہ جیسے ہم کھاتے پیتے ہیں  اسی طرح تم بھی کھاتے پیتے ہو، اگرتم رسالت کے دعوے میں  سچے ہو تو اپنی سچائی کی کوئی نشانی لے کرآؤ۔(1)
قَالَ هٰذِهٖ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَّ لَكُمْ شِرْبُ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍۚ(۱۵۵)
ترجمۂکنزالایمان: فرمایا یہ ناقہ ہے ایک دن اس کے پینے کی باری اور ایک معیّن دن تمہاری باری۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:  صالح نے فرمایا: یہ ایک اونٹنی ہے، ایک دن اس کے پینے کی باری ہے اور ایک معیّن دن تمہارے پینے کی باری ہے۔
{قَالَ: فرمایا۔} حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے قوم کے مطالبے پر فرمایا: ’’یہ ایک اونٹنی ہے، ایک دن اس کے پینے کی باری ہے، تواس میں  اس کے ساتھ مزاحمت نہ کر و اور ایک مُعیّن دن تمہارے پینے کی باری ہے، تووہ اس میں  تمہارے ساتھ مزاحمت نہ کرے گی۔یہ اونٹنی قوم کے معجزہ طلب کرنے پر ان کی خواہش کے مطابق حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی دعا سے پتھر سے نکلی تھی۔ اس کا سینہ ساٹھ گز کا تھا، جب اس کے پینے کا دن ہوتا تو وہ وہاں  کا تمام پانی پی جاتی اور جب لوگوں  کے پینے کا دن ہوتا تو اس دن نہ پیتی۔(2)
وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَظِیْمٍ(۱۵۶)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۵۳-۱۵۴، ۳/۳۹۳، مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۵۳-۱۵۴،ص۸۲۸، ملتقطاً۔
2…مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۵۵، ص۸۲۸، ملخصاً۔