میں سے گھر تراشتے ہو اور ان گھروں کو بنانے سے تمہارا مقصد رہائش اختیار کرنا نہیں بلکہ صرف اپنی مہارت پر غرور کرنا ہے تو تم اللہ تعالٰی کے عذاب سے ڈرو اور میری اطاعت کرتے ہوئے وہ اعمال کرو جن کا تمہیں دنیا اور آخرت میں فائدہ ہو اور حد سے بڑھنے والوں کے کہنے پر نہ چلو۔حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ مُسْرِفِیۡنَ سے مراد مشرکین ہیں ۔بعض مفسرین نے کہا کہ مُسْرِفِیۡنَ سے مراد وہ نو شخص ہیں جنہوں نے اونٹنی کو قتل کیا تھا۔(1)
الَّذِیْنَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ(۱۵۲)
ترجمۂکنزالایمان: وہ جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور بناؤ نہیں کرتے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: وہ جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔
{یُفْسِدُوْنَ: فساد پھیلاتے ہیں ۔} یعنی حد سے بڑھنے والے وہ ہیں جو کفر، ظلم اور گناہوں کے ساتھ زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اورایمان لا کر، عدل قائم کرکے اور اللہ تعالٰی کے فرمانبردار ہو کر اصلاح نہیں کرتے۔ اس کامعنی یہ ہے کہ بعض فساد پھیلانے والے ایسے بھی ہوتے ہیں کہ کچھ فساد بھی کرتے ہیں اوران میں کچھ نیکی بھی ہوتی ہے،لیکن یہ ایسے نہیں بلکہ ان کا فساد مضبوط ہے جس میں کسی طرح نیکی کا شائبہ تک نہیں ۔(2)
قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَۚ(۱۵۳) مَاۤ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا ۚۖ-فَاْتِ بِاٰیَةٍ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ(۱۵۴)
ترجمۂکنزالایمان: بولے تم پر تو جادو ہوا ہے۔ تم تو ہمیں جیسے آدمی ہو تو کوئی نشانی لاؤ اگر سچے ہو۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ابن کثیر، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۴۹-۱۵۱، ۶/۱۴۰، خازن، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۴۹-۱۵۱، ۳/۳۹۳، ملتقطاً۔
2…خازن، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۵۲، ۳/۳۹۳، مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۵۲،ص۸۲۷، ملتقطاً۔