میں جن کا شگوفہ نرم نازک۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: کیا تم یہاں (دنیا) کی نعمتوں میں امن و امان کی حالت میں چھوڑ دئیے جاؤ گے؟ باغوں اور چشموں میں ۔ اور کھیتوں اور کھجوروں میں جن کا شگوفہ نرم ونازک ہوتاہے۔
{اَتُتْرَكُوْنَ: کیا تم چھوڑ دئیے جاؤ گے۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے مزید نصیحت کرتے ہوئے اپنی قوم سے فرمایا: ’’کیا تمہارا گمان یہ ہے کہ تم دنیاکی نعمتوں جیسے باغوں اور چشموں میں ، کھیتوں اور کھجوروں میں جن کا شگوفہ نرم ونازک ہوتاہے، امن و امان کی حالت میں چھوڑ دئیے جاؤ گے کہ یہ نعمتیں تم سے کبھی زائل نہ ہوں گی،تم پر کبھی عذاب نہ آئے گا اور تمہیں کبھی موت نہ آئے گی۔ (تمہارا یہ گمان غلط ہے اور ایسا کبھی نہیں ہو گا۔) (1)
وَ تَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا فٰرِهِیْنَۚ(۱۴۹) فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ(۱۵۰) وَ لَا تُطِیْعُوْۤا اَمْرَ الْمُسْرِفِیْنَۙ(۱۵۱)
ترجمۂکنزالایمان: اور پہاڑوں میں سے گھر تراشتے ہو استادی سے۔ تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو۔ اور حد سے بڑھنے والوں کے کہنے پر نہ چلو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور تم بڑی مہارت دکھاتے ہوئے پہاڑوں میں سے گھر تراشتے ہو۔ تو اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ اور حد سے بڑھنے والوں کے کہنے پر نہ چلو۔
{فٰرِهِیْنَۚ: بڑی مہارت دکھاتے ہوئے۔} اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے قوم سے فرمایا: تم بڑی مہارت دکھاتے ہوئے، اپنی صَنعت پر غرور کرتے اوراِتراتے ہوئے پہاڑوں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…روح البیان، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۴۶-۱۴۸، ۶/۲۹۷-۲۹۸، مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۴۶-۱۴۸، ص۸۲۷، ملتقطاً۔