Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
13 - 608
حِجْرًا مَّحْجُوْرًا(۲۲)
ترجمۂکنزالایمان: جس دن فرشتوں  کو دیکھیں  گے وہ دن مجرموں  کی کوئی خوشی کا نہ ہوگا اور کہیں  گے الٰہی ہم میں  ان میں  کوئی آڑ کردے رُکی ہوئی۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: یاد کروجس دن لوگ فرشتوں  کو دیکھیں  گے تواس دن مجرموں  کے لئے کوئی خوشخبری نہ ہوگی اوروہ کہیں  گے: (یا اللہ! ہمارے درمیان) کوئی روکی ہوئی آڑ کردے۔
{یَوْمَ یَرَوْنَ الْمَلٰٓىٕكَةَ: یاد کروجس دن لوگ فرشتوں  کو دیکھیں  گے۔} یعنی لوگ اپنی موت کے وقت روح نکالنے والے فرشتوں  کو اِس حال میں  دیکھیں  گے یا قیامت کے دن عذاب دینے پر مامور فرشتوں  کو اس حال میں  دیکھیں  گے کہ وہ ان سے کہہ رہے ہوں  گے’’اس دن مجرموں  کیلئے کوئی خوشخبری نہ ہوگی۔(1)
	یاد رہے کہ اس آیت میں  مجرموں  سے مرادکفار ہیں ، مومنین کو قیامت کے دن جنت کی بشارت سنائی جائے گی،جیساکہ ارشادِ باری تعالٰی ہے:
’’یَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ یَسْعٰى نُوْرُهُمْ بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ بِاَیْمَانِهِمْ بُشْرٰىكُمُ الْیَوْمَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاؕ-ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُۚ‘‘(2)
ترجمۂکنزُالعِرفان: جس دن تم مومن مردوں  اورایمان  والی عورتوں  کو دیکھو گے کہ ان کا نور ان کے آگے اور ان کی دائیں  جانب دوڑرہا ہے (فرمایا جائے گا کہ) آج تمہاری سب سے زیادہ خوشی کی بات وہ جنتیں  ہیں  جن کے نیچے نہریں   بہتی ہیں  تم ان میں  ہمیشہ رہو، یہی بڑی کامیابی ہے۔
{وَ یَقُوْلُوْنَ: اوروہ کہیں  گے۔} ا س آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ قیامت کے دن کفار جب فرشتوں  کو دیکھیں  گے تو وہ فرشتوں  سے پناہ چاہتے ہوئے کہیں  گے:اے اللہ! عَزَّوَجَلَّ، ہمارے اور ان فرشتوں  کے درمیان کوئی روکی ہوئی آڑ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بیضاوی، الفرقان، تحت الآیۃ: ۲۲، ۴/۲۱۳، جلالین مع صاوی، الفرقان، تحت الآیۃ: ۲۲، ۴/۱۴۳۲، ملتقطاً۔
2…حدید:۱۲۔