شروع سے ہوتا آ رہا ہے۔(1)
{وَ مَا نَحْنُ: اور ہمیں نہیں ۔} قوم نے مزید یہ کہا کہ ہمارے اعمال اور ہماری عادات پر دنیا میں ہمیں عذاب نہیں دیا جائے گا اور نہ مرنے کے بعد ہمیں اٹھنا ہے اور نہ آخرت میں حساب دینا ہے۔(2)
فَكَذَّبُوْهُ فَاَهْلَكْنٰهُمْؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةًؕ-وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(۱۳۹)وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠(۱۴۰)
ترجمۂکنزالایمان: تو انہوں نے اسے جھٹلایا تو ہم نے انہیں ہلاک کیا بیشک اس میں ضرور نشانی ہے اور ان میں بہت مسلمان نہ تھے۔ اور بیشک تمہارا رب ہی عزت والا مہربان ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو انہوں نے اسے جھٹلایا تو ہم نے انہیں ہلاک کردیا، بیشک اس میں ضرور نشانی ہے اور ان میں اکثر مسلمان نہ تھے۔اور بیشک تمہارا رب ہی غلبے والا مہربان ہے۔
{فَكَذَّبُوْهُ: تو انہوں نے اسے جھٹلایا۔} قومِ عاد نے حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی نصیحتوں کو نہ مانا، آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلایا اور اس جھٹلانے پر قائم رہے تو اللہ تعالٰی نے ا س کی وجہ سے انہیں دنیا میں ہوا کے عذاب سے ہلاک کر دیا۔ بے شک قومِ عاد کی ہلاکت و بربادی میں ضرور عبرت کی نشانی ہے کہ انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلانے والوں کا انجام بڑا درد ناک ہے اور قومِ عاد کے بہت تھوڑے لوگ ایمان لائے جو بچا لئے گئے۔(3)
{وَ اِنَّ رَبَّكَ: اور بیشک تمہارا رب۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، جو شخص نصیحت قبول نہ کرے اور جابر و متکبر لوگوں جیسے اعمال کرے تو بیشک آپ کا رب عَزَّوَجَلَّ ہی اس پر غالب اور اسے سزا دینے والا ہے اور جو ایمان
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…جلالین، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۳۷، ص۳۱۴، تفسیرکبیر، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۳۷، ۸/۵۲۳، مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ:۱۳۷، ص۸۲۷، ملتقطاً۔
2…روح البیان، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۳۸، ۶/۲۹۶، مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۳۸، ص۸۲۷، ملتقطاً۔
3…روح البیان، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۳۹، ۶/۲۹۶، جلالین، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۳۹، ص۳۱۴، ملتقطاً۔