اورارشاد فرماتا ہے:
’’وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ فَاَعْرَضَ عَنْهَا وَ نَسِیَ مَا قَدَّمَتْ یَدٰهُؕ-‘‘(1)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جسے اس کے رب کی آیتوں کے ذریعے نصیحت کی جائے تو وہ ان سے منہ پھیرلے اور ان اعمال کو بھول جائے جو اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجے ہیں ۔
اورمسلمانوں کو منافقین اور مشرکین کے حال سے دُور رہنے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ
’’وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ هُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ‘‘(2)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ان لوگوں کی طرح نہ ہونا جنہوں نے کہا :ہم نے سن لیا حالانکہ وہ نہیں سنتے۔
اللہ تعالٰی عمل کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الْاَوَّلِیْنَۙ(۱۳۷) وَ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَۚ(۱۳۸)
ترجمۂکنزالایمان: یہ تو نہیں مگر وہی اگلوں کی رِیت۔اور ہمیں عذاب ہونا نہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: وہ تو صرف پہلے لوگوں کی بنائی ہوئی جھوٹی باتیں ہیں ۔ اور ہمیں عذاب نہیں دیا جائے گا۔
{ اِنْ هٰذَاۤ: یہ تو نہیں ۔} اس آیت کا ایک معنی یہ ہے کہ قوم نے کہا: جن چیزوں کا آپ نے خوف دلایا یہ پہلے لوگوں کی باتیں ہیں ، وہ بھی ایسی ہی باتیں کہا کرتے تھے۔ اس سے ان کی مراد یہ تھی کہ ہم ان باتوں کا اعتبار نہیں کرتے اورانہیں جھوٹ جانتے ہیں ۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ قوم نے کہا:ہماری یہ موت و حیات اور ہماراعمارتیں بنانا پہلوں کے طریقہ پر ہے یعنی جس طرح وہ زندہ تھے اسی طرح ہم زندہ ہیں ،جس طرح وہ مر گئے اسی طرح ہم بھی مر جائیں گے اور جس طرح وہ عمارتیں بنایا کرتے تھے اسی طرح ہم بھی عمارتیں بنا رہے ہیں تو یہ مرنا جینا اور عمارتیں بنانا کوئی نئی بات نہیں بلکہ ایسا تو
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…کہف:۵۷۔
2…انفال:۲۱۔