لے آئے اسے عذاب سے نجات دے کر ا س پر مہربانی فرمانے والا ہے۔(1)
كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ الْمُرْسَلِیْنَۚۖ(۱۴۱) اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ صٰلِحٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ(۱۴۲)
ترجمۂکنزالایمان: ثمود نے رسولوں کو جھٹلایا۔ جب کہ ان سے ان کے ہم قوم صا لح نے فرمایا کیا ڈرتے نہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: قومِ ثمود نے رسولوں کو جھٹلایا۔جب ان سے ان کے ہم قوم صا لح نے فرمایا: کیا تم ڈرتے نہیں ؟
{كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ: قومِ ثمود نے جھٹلایا۔} یہاں سے نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تسلی کے لئے حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اورا ن کی قومِ ثمود کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔ اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ قومِ ثمود نے حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اس وقت جھٹلاکر انہیں ا ور ان سے پہلے رسولوں کو جھٹلایا جب انہوں قومِ ثمود سے فرمایا: کیا تم شرک کرنے پر اللہ تعالٰی کے عذاب سے ڈرتے نہیں ۔(2)
نوٹ: یہ واقعہ سورہ ِاَعراف،آیت نمبر73تا79اور سورہ ِہود،آیت نمبر61تا68میں گزر چکا ہے۔
اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ(۱۴۳) فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ(۱۴۴)
ترجمۂکنزالایمان: بیشک میں تمہارے لیے اللہ کا امانت دار رسول ہوں ۔ تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک میں تمہارے لیے امانتدار رسول ہوں ۔ تو اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔
{اَمِیْنٌ: امانتدار۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے قومِ ثمود سے فرمایا: مجھے اللہ تعالٰی نے تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے تاکہ میں تمہیں اس کے حکم کی خلاف ورزی کرنے پر اس کے عذاب سے ڈراؤں اور جس رسالت کے ساتھ اس نے مجھے تمہاری طرف بھیجا میں اس پر امین ہوں ، تو اے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…روح البیان، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۴۰، ۶/۲۹۶-۲۹۷۔
2…روح البیان، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۴۱-۱۴۲، ۶/۲۹۷۔