Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
134 - 608
الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ اَعْمٰىؕ-اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ‘‘(1)
طرف تمہارے رب کے پاس سے نازل کیا گیا ہے وہ حق ہے تو کیا وہ اس جیسا ہے جو اندھا ہے؟ صرف عقل والے ہی نصیحت مانتے ہیں ۔ 
	نیزکامل ایمان والوں  کے بارے میں  ارشادفرمایا کہ جب ان کے رب عَزَّوَجَلَّ کی آیتوں  کے ساتھ انہیں  نصیحت کی جاتی ہے تو وہ ان پر غفلت کے ساتھ بہرے اندھے ہوکر نہیں  گرتے کہ نہ سوچیں  نہ سمجھیں  بلکہ ہوش وحواس قائم رکھتے ہوئے سنتے ہیں  اورچشمِ بصیرت کے ساتھ دیکھتے ہیں  اور اس نصیحت سے ہدایت حاصل کرتے ہیں ،نفع اُٹھاتے ہیں  اور ان آیتوں  پر فرمانبردارانہ گرتے ہیں ،چنانچہ ارشاد فرمایا کہ
’’وَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَمْ یَخِرُّوْا عَلَیْهَا صُمًّا وَّ عُمْیَانًا‘‘(2)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور وہ لوگ کہ جب انہیں  ان کے ربکی آیتوں  کے ساتھ نصیحت کی جاتی ہے تو ان پر بہرے اندھے ہوکر نہیں  گرتے۔
	فی زمانہ نصیحت قبول کرنے کے حوالے سے مسلمانوں  کی حالت ایسی ہو چکی ہے کہ اگر کسی کو سمجھایاجائے تو وہ ماننے کو تیار نہیں  ہوتا اور اگر سمجھانے والا مرتبے میں  اپنے سے کم ہو تو جسے سمجھایا جائے وہ اپنی بات پراڑ جا تا ہے اور دوسرے کی بات ماننا اپنے لئے توہین سمجھتا ہے اور نصیحت کئے جانے کو اپنی عزت کا مسئلہ بنالیتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اب چھوٹے خاندان والے بڑے خاندان والوں  کو نہیں  سمجھا سکتے، عام آدمی کسی چودھری کو نہیں  سمجھاسکتا،غریب شخص کسی مالدار آدمی کو نہیں  سمجھا سکتا، عوام کسی دنیوی منصب والے کو نہیں  سمجھا سکتے، مسجدوں  میں  کوئی نوجوان عالم یا دینی مبلغ کسی پرانے بوڑھے کو نہیں  سمجھا سکتا بلکہ جسے سمجھایا جائے وہی گلے پڑ جاتا ہے۔اللہ تعالٰی مسلمانوں  کے حال پر رحم فرمائے، انہیں  چاہئے کہ ان آیاتِ کریمہ پر غور کر کے اپنی حالت سدھارنے کی کوشش کریں ۔ چنانچہ اللہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے:
’’وَ اِذَا قِیْلَ لَهُ اتَّقِ اللّٰهَ اَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْاِثْمِ فَحَسْبُهٗ جَهَنَّمُؕ-وَ لَبِئْسَ الْمِهَادُ‘‘(3)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب اس سے کہا جائے کہ اللہ سے ڈرو تو اسے ضد مزید گناہ پر ابھارتی ہے توایسے کو جہنم کافی ہے اور وہ ضرور بہت برا ٹھکاناہے۔ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…رعد:۱۹۔
2…الفرقان:۷۳۔
3…بقرہ:۲۰۶۔