Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
133 - 608
ترجمۂکنزالایمان: بولے ہمیں  برابر ہے چاہے تم نصیحت کرو یا ناصحوں  میں  نہ ہو۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان: قوم نے کہا: ہمارے اوپر برابر ہے کہ آپ ہمیں  نصیحت کریں  یا آپ نصیحت کرنے والوں  میں  سے نہ ہوں ۔
{قَالُوْا: بولے۔} قومِ عادنے حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی نصیحتوں  کا جواب یہ دیا کہ’’ آپ ہمیں  نصیحت کریں  یا آپ نصیحت کرنے والوں  میں  سے نہ ہوں ، ہمارے لئے دونوں  چیزیں  برابر ہیں ، ہم کسی طرح آپ کی بات نہ مانیں  گے اور نہ آپ کی دعوت قبول کریں  گے۔(1)
نصیحت قبول کرنا مسلمان کا اور نہ ماننا کافر کا کام ہے :
	 اس آیت سے معلوم ہو اکہ نصیحت قبول کرنا مسلمان کا کام ہے اور نہ ماننا کافر کا۔ اسی چیز کو بیان کرتے ہوئے ایک اور مقام پر اللہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے کہ
’’اَوَ لَا یَرَوْنَ اَنَّهُمْ یُفْتَنُوْنَ فِیْ كُلِّ عَامٍ مَّرَّةً اَوْ مَرَّتَیْنِ ثُمَّ لَا یَتُوْبُوْنَ وَ لَا هُمْ یَذَّكَّرُوْنَ‘‘(2)
ترجمۂکنزُالعِرفان: کیا وہ یہ نہیں  دیکھتے کہ انہیں  ہر سال ایک یا دو مرتبہ آزمایا جاتا ہے پھر (بھی) نہ وہ توبہ کرتے ہیں  اورنہ ہی نصیحت مانتے ہیں ۔
	اورارشاد فرماتا ہے:
’’وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِیَذَّكَّرُوْاؕ-وَ مَا یَزِیْدُهُمْ اِلَّا نُفُوْرًا‘‘ (3)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور بیشک ہم نے اس قرآن میں  طرح طرح سے بیان فرمایا تاکہ وہ سمجھیں  اور یہ سمجھانا ان کے دور ہونے کو ہی بڑھا رہا ہے۔
 	اورارشاد فرماتا ہے:
’’ اَفَمَنْ یَّعْلَمُ اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ 
ترجمۂکنزُالعِرفان: وہ آدمی جو یہ جانتا ہے کہ جو کچھ تمہاری
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۳۶، ۳/۳۹۲، مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۳۶، ص۸۲۷، ملتقطاً۔
2…التوبۃ:۱۲۶۔
3…بنی اسرائیل:۴۱۔