سے اس وقت گزرے جب میں اور میری والدہ دیوار کی لپائی کر رہے تھے۔ حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’اے عبداللہ! رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ، یہ کیا کر رہے ہو؟میں نے عرض کی ’’یا رسولَ اللہ !صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّمَ، میں دیوار کو درست کر رہا ہوں ۔تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’موت ا س سے زیادہ قریب ہے۔(1)
وَ اتَّقُوا الَّذِیْۤ اَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُوْنَۚ(۱۳۲) اَمَدَّكُمْ بِاَنْعَامٍ وَّ بَنِیْنَۚۙ(۱۳۳) وَ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۚ(۱۳۴) اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍؕ(۱۳۵)
ترجمۂکنزالایمان: اور اس سے ڈرو جس نے تمہاری مدد کی ان چیزوں سے کہ تمہیں معلوم ہیں ۔تمہاری مدد کی چوپایوں اور بیٹوں ۔اور باغوں اور چشموں سے۔بیشک مجھے تم پر ڈر ہے ایک بڑے دن کے عذاب کا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اس سے ڈرو جس نے تمہاری ان چیزوں سے مدد کی جو تمہیں معلوم ہیں ۔ اس نے جانوروں اور بیٹوں کے ساتھ تمہاری مدد کی۔ اور باغوں اور چشموں سے۔بیشک مجھے تم پر ایک بڑے دن کے عذاب کاڈر ہے۔
{وَ اتَّقُوا: اور ڈرو۔} اس آیت اور اس کے بعد والی تین آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے قوم سے فرمایا: ’’اس سے ڈرو جس نے تمہاری ان نعمتوں سے مدد کی جنہیں تم جانتے ہو،جیسے اس نے جانوروں اور بیٹوں کے ساتھ تمہاری مدد کی،باغوں اور چشموں سے تمہاری مدد کی،اگر تم نے میری نافرمانی کر کے ان نعمتوں کی ناشکری کی تو بیشک مجھے تم پر ایک بڑے دن کے عذاب کاڈر ہے۔(2)
قَالُوْا سَوَآءٌ عَلَیْنَاۤ اَوَ عَظْتَ اَمْ لَمْ تَكُنْ مِّنَ الْوٰعِظِیْنَۙ(۱۳۶)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ابو داؤد، کتاب الادب، باب ما جاء فی البناء، ۴/۴۵۹، الحدیث: ۵۲۳۵۔
2…خازن، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۳۲-۱۳۵، ۳/۳۹۲۔