کو چھوڑ دو اور میں تمہیں اللہ تعالٰی کی وحدانِیَّت پر ایمان لانے اور عدل و انصاف وغیرہ کی دعوت دے رہا ہوں اس میں میری اطاعت کرو۔(1)
نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور صحابہ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے مکانات کی سادگی:
اس آیت میں قومِ عاد کے مضبوط محلات بنانے کا ذکر ہوا، فی زمانہ بھی لوگوں کی عمومی خواہش یہ ہوتی ہے کہ وہ انتہائی خوبصورت،مضبوط اور بڑا گھر بنائیں ۔جائز ذرائع اور حلال مال سے اس خواہش کو پورا کرنا اگرچہ جائز ہے لیکن اگر ضرورت کے مطابق مناسب ساگھر بنایا جائے تو زیادہ بہتر ہے۔دو جہاں کے سردار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور ان کے پیارے صحابہ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے مکانات کی سادگی ملاحظہ ہو، چنانچہ سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مسجد ِنَبَوی کے متصل ہی اَزواجِ مطہرات رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کے لئے مکانات بنوائے تھے۔ ان مکانات کی سادگی کا عالم یہ تھا کہ صرف دس دس گز لمبے اور چھ چھ،سات سات گز چوڑے تھے، کچی اینٹوں کی دیواریں ، کھجور کی پتیوں کی چھت اوروہ بھی اتنی نیچی کہ آدمی کھڑا ہو کر چھت کو چھو لیتا، دروازوں میں لکڑی کے تختوں کی بجائے کمبل یا ٹاٹ کے پردے پڑے رہتے تھے۔(2)
تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اپنے صحابہ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے لئے بھی مکانات کی شان و شوکت پسند نہ فرماتے اور اگر کوئی شاندار مکان تعمیر کرتا یا اپنے مکان کی تزئین و آرائش میں مصروف ہوتا تو ا س کی تربیت فرماتے، چنانچہ ایک بار آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ایک راستے سے گزرے، راستے میں ایک اونچا سا گنبد (نما مکان) دیکھا تو فرمایا: ’’یہ کس کا ہے؟ لوگوں نے ایک انصاری کا نام بتایا، آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو یہ شان وشوکت ناگوار ہوئی، مگر اس کا اظہار نہیں فرمایا، کچھ دیر کے بعد انصاری بزرگ آئے، اور سلام کیا، لیکن آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے رخِ انور پھیر لیا، باربار یہ واقعہ پیش آیا تو انہوں نے دوسرے صحابہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ سے حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ناراضگی کاذکر کیا، جب سبب معلوم ہو ا تو انہوں نے اس قبے کو گرا کر زمین کے برابر کردیا۔(3)
حضرت عبداللہ بن عمرو رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں ’’نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میرے پاس
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، الشعراء،تحت الآیۃ:۱۲۹-۱۳۱،۳/۳۹۲، روح البیان،الشعراء،تحت الآیۃ:۱۲۹-۱۳۱،۶/۲۹۵-۲۹۶،ملتقطاً۔
2…شرح الزرقانی، ذکر بناء المسجد النبوی وعمل المنبر، ۲/۱۸۵، ملخصاً۔
3…ابو داؤد، کتاب الادب، باب ما جاء فی البناء، ۴/۴۶۰، الحدیث: ۵۲۳۷۔