Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
130 - 608
 (3)سلام کا جواب دینا (4)اچھی بات کا حکم کرنا اور (5)بری باتوں  سے منع کرنا۔(1)
	ایک اور روایت میں  راستے کے یہ دو حق بھی بیان کئے گئے ہیں : (1)فریاد کرنے والے کی فریاد سننا۔ (2)بھولے ہوئے کو ہدایت کرنا۔(2)
	حضرت ابوہریرہ  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ ’’راستوں  کے بیٹھنے میں  بھلائی نہیں  ہے، مگر اس کے لیے جو راستہ بتائے، سلام کا جواب دے، نظر نیچی رکھے اور بوجھ لادنے پر مدد کرے۔(3)
وَ تَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُوْنَۚ(۱۲۹) وَ اِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِیْنَۚ(۱۳۰) فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ(۱۳۱)
ترجمۂکنزالایمان: اور مضبوط محل چنتے ہو اس امید پر کہ تم ہمیشہ رہوگے۔ اور جب کسی پر گرفت کرتے ہو تو بڑی بیدردی سے گرفت کرتے ہو۔تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور مضبوط محل بناتے ہو اس امید پر کہ تم ہمیشہ رہوگے۔ اور جب کسی کو پکڑتے ہو تو بڑی بیدردی سے پکڑتے ہو۔ تو اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔
{وَ تَتَّخِذُوْنَ: اور بناتے ہو۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی دو آیات میں  قومِ عاد کے دو اورمعمولات کے بارے میں  حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا کلام ذکر ہوا، چنانچہ حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم سے فرمایا: ’’تم اس امید پر مضبوط محل بناتے ہو کہ تم ہمیشہ رہوگے اور کبھی مرو گے نہیں اور جب کسی پر گرفت کرتے ہو تو بڑی بیدردی کے ساتھ تلوار سے قتل کرکے اوردُرّے مار کرانتہائی بے رحمی سے گرفت کرتے ہو، تو تم اللہ تعالٰی کے عذاب سے ڈرو اور ان کاموں 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بخاری، کتاب المظالم والغصب، باب افنیۃ الدور والجلوس فیہا۔۔۔ الخ، ۲/۱۳۲، الحدیث: ۲۴۶۵۔
2…ابو داؤد، کتاب الادب، باب فی الجلوس فی الطرقات، ۴/۳۳۷، الحدیث: ۴۸۱۷۔
3…شرح سنہ، کتاب الاستئذان، باب کراہیۃ الجلوس علی الطرق، ۶/۳۶۵، الحدیث: ۳۲۳۲۔