ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک اس میں ضرور نشانی ہے اور ان میں اکثر مسلمان نہ تھے۔ اور بیشک تمہارا رب ہی غلبے والا، مہربان ہے۔
{اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةًؕ: بیشک اس میں ضرور نشانی ہے۔} یعنی حق سے تکبر کرنے اور غریب مسلمانوں کو حقیر جاننے کی وجہ سے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کا جو انجام ہوا اس میں بعد والوں کے لئے عبرت کی نشانی ہے۔(1)
{وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ: اور ان میں اکثر مسلمان نہ تھے۔} حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم میں سے مسلمان ہونے والے مرد و عورت کی تعداد 80تھی اوراس آیت میں حضور انور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تسلی دی گئی ہے کہ ہمیشہ تھوڑے لوگ ہی ایمان اور ہدایت قبول کرتے ہیں ۔(2)
كَذَّبَتْ عَادُ اﰳلْمُرْسَلِیْنَۚۖ(۱۲۳)
ترجمۂکنزالایمان: عاد نے رسولوں کو جھٹلایا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: عاد نے رسولوں کو جھٹلایا۔
{كَذَّبَتْ عَادُ: عاد نے جھٹلایا۔} یہاں سے رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تسلی کے لئے حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی قوم کا واقعہ بیان کیا جارہا ہے۔ حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کا نام عاد ہے، یہ ایک قبیلہ ہے اور دراصل یہ ایک شخص کا نام ہے جس کی اولاد سے یہ قبیلہ ہے۔(3)
نوٹ: یہ واقعہ سورۂ اَعراف،آیت نمبر65 تا 72،سورۂ ہود50تا60 میں بھی گزر چکا ہے۔
اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ هُوْدٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ(۱۲۴) اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ(۱۲۵)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…روح البیان، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۲۱، ۶/۲۹۳۔
2…روح البیان، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۲۱، ۶/۲۹۳۔
3…مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۲۳، ص۸۲۶۔