گھٹیا کہا بلکہ میری دعا کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے تیرے کلام کو جھٹلایا اور تیری رسالت کے قبول کرنے سے انکار کیا۔(1)
فَاَنْجَیْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ فِی الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۚ(۱۱۹) ثُمَّ اَغْرَقْنَا بَعْدُ الْبٰقِیْنَؕ(۱۲۰)
ترجمۂکنزالایمان: تو ہم نے بچالیا اسے اور اس کے ساتھ والوں کو بھری ہوئی کشتی میں ۔ پھر اس کے بعد ہم نے باقیوں کو ڈبو دیا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو ہم نے اسے اور اس کے ساتھ والوں کو بھری ہوئی کشتی میں بچا لیا۔پھر اس کے بعد ہم نے باقی لوگوں کو غرق کر دیا۔
{فَاَنْجَیْنٰهُ: تو ہم نے اسے بچالیا۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی دعا قبول فرمائی اور اس نے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اور ان کے ساتھ والوں کوانسانوں ، پرندوں اور جانوروں سے بھری ہوئی کشتی میں سوار کرکے طوفان سے بچا لیا اور انہیں نجات دینے کے بعد باقی لوگوں کو طوفان میں غرق کر دیا۔(2)
اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةًؕ-وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(۱۲۱)وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠(۱۲۲)
ترجمۂکنزالایمان: بیشک اس میں ضرور نشانی ہے اور ان میں اکثر مسلمان نہ تھے۔ اور بیشک تمہارا رب ہی عزت والا مہربان ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…روح البیان،الشعراء،تحت الآیۃ:۱۱۷-۱۱۸،۶/۲۹۳،تفسیرکبیر،الشعراء،تحت الآیۃ:۱۱۷-۱۱۸، ۸/۵۲۱، ملتقطاً۔
2…خازن، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۱۹-۱۲۰، ۳/۳۹۲۔