Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
125 - 608
 وہی میرا مُقَرّب ہے اور جو ایمان نہ لائے وہی مجھ سے دور ہے۔(1)
{قَالُوْا: بولے۔} حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم نے کہا :اے نوح ! عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، اگر تم دعوت دینے اور ڈر سنانے سے باز نہ آئے تو ضرورتم سنگسار کئے جانے والوں  میں  سے ہوجاؤ گے۔(2)
قَالَ رَبِّ اِنَّ قَوْمِیْ كَذَّبُوْنِۚۖ(۱۱۷) فَافْتَحْ بَیْنِیْ وَ بَیْنَهُمْ فَتْحًا وَّ نَجِّنِیْ وَ مَنْ مَّعِیَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ(۱۱۸)
ترجمۂکنزالایمان:  عرض کی اے میرے رب میری قوم نے مجھے جھٹلایا۔  تو مجھ میں  اور ان میں  پورا فیصلہ کردے اور مجھے اور میرے ساتھ والے مسلمانوں  کو نجات دے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:  نوح نے عرض کی: اے میرے رب! بیشک میری قوم نے مجھے جھٹلایا۔ تو مجھ میں  اور ان میں  پورا فیصلہ کردے اور مجھے اور میرے ساتھ والے مسلمانوں  کو نجات دے۔
{قَالَ: عرض کی۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے بارگاہِ الٰہی میں  عرض کی :اے میرے رب! بیشک میری قوم نے تیری وحی ورسالت میں  مجھے جھٹلایا ہے، پس تو مجھ میں  اور ان میں  وہ فیصلہ کردے جس کا ہم میں  سے ہر کوئی حق دار ہے اور مجھے اور میرے ساتھ والے مسلمانوں  کو ان کافروں  کی اَذِیَّتوں  سے نجات دے۔
	حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی دعا میں  جو ذکر کیا کہ میری قوم نے تیری وحی اور رسالت میں  مجھے جھٹلایا ہے، اس سے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی مراد یہ تھی کہ میں  جواِن کے بارے میں  ہلاکت کی دعا کررہا ہوں  اس کا سبب یہ نہیں  ہے کہ انہوں  نے مجھے سنگسار کرنے کی دھمکی دی اور نہ ہی یہ سبب ہے کہ انہوں  نے میری پیروی کرنے والوں  کو
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۱۵، ص۸۲۶، خازن، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۱۵، ۳/۳۹۱، ملتقطاً۔
2…روح البیان، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۱۶، ۶/۲۹۳۔