فرماتے، کبھی کپڑ اخریدتے اور ا س کی قیمت ادا کر کے اس کپڑے والے کو وہی کپڑ ابخش دیتے،کبھی قرض لیتے اور (اپنی طرف سے) اس کی مقدار سے زیادہ عطا فرما دیتے،کبھی کپڑ اخرید کراس کی قیمت سے زیادہ رقم عنایت فرما دیتے اور کبھی ہدیہ قبول فرماتے اور اس سے کئی گُنا زیادہ انعام میں عطا فرما دیتے۔(1)
اللہ تعالٰی تمام مسلمانوں کو اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مبارک تعلیمات کو اپنانے اور آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی پیاری سیرت پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے، اٰمین۔
اللہ تعالٰی کی اطاعت کے معاملے میں کسی کی پرواہ نہیں کرنی چاہئے:
اس آیت میں ہے کہ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے کفار کے اس مطالبے کو تسلیم نہیں کیا کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام غریبوں کو خود سے دور کردیں ، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالٰی کی اطاعت میں کسی کی طرف سے ہونے والی باتوں کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے بلکہ اس سے بے پرواہ ہو کر اللہ تعالٰی کی اطاعت کرنا اور حق بات کو بیان کرنا چاہئے۔ سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بطورِ خاص صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کو اس بات کا حکم دیتے اور اس پر بیعت لیتے کہ وہ اللہ تعالٰی کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے ڈریں گے نہ اس کی پرواہ کریں گے اور صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کا یہ حال تھا کہ وہ اس عہد کی پاسداری میں اپنی جان تک چلی جانے کی بھی پرواہ نہ کیا کرتے تھے۔افسوس!فی زمانہ حق بات بیان کرنے کے حوالے سے مسلمانوں کا حال انتہائی نازک ہے،یہ اپنے سامنے اللہ تعالٰی اور اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نافرمانیاں ہوتی دیکھ کر، دین کا مذاق اڑتا ہوا اور شریعت کے احکامات پر عمل پیرا حضرات کی تذلیل ہوتی دیکھ کر،دینِ اسلام کے احکام اور اس کی تعلیمات پر انگلیاں اٹھتی دیکھ کر اتنی ہمت بھی نہیں کر پاتے کہ ایسے لوگوں کو زبان سے ہی روک دیں بلکہ الٹا ان کی ہاں میں ہاں ملاتے اور ان کی الٹی سیدھی اور جاہلانہ باتوں کو صحیح قرار دیتے ہیں ۔ اللہ تعالٰی انہیں عقل ِسلیم عطا فرمائے اور حق بات کہنے اور اس میں کسی کی ملامت کی پرواہ نہ کرنے کی توفیق اور ہمت عطا فرمائے،اٰمین۔
{نَذِیْرٌ: ڈر سنانے والا۔} حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا کہ میری ذمہ داری تمہیں صحیح دلیل کے ساتھ صاف صاف ڈر سناناہے جس سے حق و باطل میں امتیاز ہوجائے، تو جو ایمان لائے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مدارج النبوہ، باب دوم در بیان اخلاق وصفا، وصل در جود وسخاوت، ۱/۴۹۔