کیوں (ایسا ہو؟) ارشاد فرمایا: ’’مسکین لوگ امیر لوگوں سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے،اے عائشہ! مسکین کے سوال کو کبھی رد نہ کرنا اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی ہو،اے عائشہ!مسکینوں سے محبت رکھو اور انہیں اپنے قریب کرو (ایسا کرنے سے) اللہ تعالٰی قیامت کے دن تجھے اپنا قرب عطا فرمائے گا۔(1)
حضرت ابو درداء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضور انور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’(اگر تم مجھے ڈھونڈنا چاہو تو) مجھے اپنے کمزور اور غریب لوگوں میں تلاش کرو کیونکہ تمہیں کمزور اور غریب لوگوں کے سبب رزق دیاجاتا ہے اور تمہاری مدد کی جاتی ہے۔(2)
حضرت ابو ذر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،رسول اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’یہ (غلام) تمہارے بھائی اور خادم ہیں ، اللہ تعالٰی نے انہیں تمہارے ماتحت کر دیا ہے تو جس شخص کے ماتحت ا س کا بھائی ہو وہ اسے وہ چیز کھلائے جسے خود کھاتا ہو،وہ لباس پہنائے جسے خود پہنتا ہو اور تم انہیں ایسے کام پر مجبور نہ کرو جو ان کے لئے دشوار ہو اور اگرانہیں ایسے کام کے لئے کہو تواس میں ان کی مدد کرو۔(3)
اسی طرح کثیر اَحادیث میں یتیموں اور بیواؤں کی سرپرستی کرنے، مزدور کو ا س کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے مزدوری دینے،غریب مقروض کو مہلت دینے یا قرض معاف کردینے کی تعلیم دی گئی ہے۔اب غریب پَروری سے متعلق سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سیرت کا عالم ملاحظہ ہو،چنانچہ قاضی عیاض رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی مشہور تصنیف ’’شفا شریف‘‘ میں ہے کہ’’حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مسکینوں کی عیادت فرماتے،فقیروں کے پاس بیٹھتے اور کوئی غلام بھی دعوت دیتا تو اسے قبول فرمالیتے تھے۔(4)
علامہ عبد الحق محدث دہلوی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں جب حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کسی محتاج کو ملاحظہ فرماتے تو اپنا کھاناپینا تک اٹھا کر عنایت فرما دیتے حالانکہ ا س کی آپ کو بھی ضرورت ہوتی،آپ کی عطا مختلف قسم کی ہوتی جیسے کسی کو تحفہ دیتے، کسی کو کوئی حق عطا فرماتے،کسی سے قرض کا بوجھ ا تار دیتے،کسی کو صدقہ عنایت
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترمذی، کتاب الزہد، باب ما جاء انّ فقراء المہاجرین یدخلون الجنّۃ قبل اغنیاء ہم، ۴/۱۵۷، الحدیث: ۲۳۵۹۔
2…ترمذی، کتاب الجہاد، باب ما جاء فی الاستفتاح بصعالیک المسلمین، ۳/۲۶۸، الحدیث: ۱۷۰۸۔
3…مسلم، کتاب الایمان والنذور، باب اطعام المملوک ممّا یأکل۔۔۔ الخ، ص۹۰۶، الحدیث: ۴۰(۱۶۶۱)۔
4…الشفا، القسم الاول، الباب الثانی، فصل وامّا تواضعہ، ص۱۳۱، الجزء الاول۔