وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الْمُؤْمِنِیْنَۚ(۱۱۴) اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌؕ(۱۱۵) قَالُوْا لَىٕنْ لَّمْ تَنْتَهِ یٰنُوْحُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمَرْجُوْمِیْنَؕ(۱۱۶)
ترجمۂکنزالایمان: اور میں مسلمانوں کو دور کرنے والا نہیں ۔ میں تو نہیں مگر صاف ڈر سنانے والا۔ بولے اے نوح اگر تم باز نہ آئے تو ضرور سَنگسار کیے جاؤ گے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور میں مسلمانوں کو دور کرنے والا نہیں ۔ میں تو صرف صاف صاف ڈر سنانے والا ہوں ۔ قوم نے کہا:اے نوح!اگر تم باز نہ آئے تو ضرورتم سنگسار کئے جانے والوں میں سے ہوجاؤ گے۔
{وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ: اور میں دور کرنے والا نہیں ۔} قوم نے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی بات سن کر کہا کہ پھر آپ کمینوں کو اپنی مجلس سے نکال دیجئے تاکہ ہم آپ کے پاس آئیں اور آپ کی بات مانیں ۔ اس کے جواب میں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا: ’’یہ میری شان نہیں کہ میں تمہاری ایسی خواہشوں کو پورا کروں اور تمہارے ایمان کے لالچ میں غریب مسلمانوں کو اپنے پاس سے نکال دوں ۔(1)
تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی غریب پَروری:
اس آیت سے معلوم ہوا کہ غریبوں فقیروں کے ساتھ بیٹھنا انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سنت ہے، لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ غریب مسلمانوں سے بھی ہم نشینی رکھے،ان کی دلجوئی کرے اور ان کی مشکلات دور کرنے کے لئے عملی طور پراِ قدامات کرنے کی کوشش کرے، ترغیب کے لئے یہاں غریب پروری اور مسکین نوازی سے متعلق تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تعلیمات اور آپ کی مبارک سیرت ملاحظہ ہو،چنانچہ
حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں :نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے یہ دعا مانگی: ’’اے اللہ! عَزَّوَجَلَّ، قیامت کے دن مجھے مسکینوں کی جماعت سے ہی اٹھانا۔حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُا نے عرض کی:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تفسیرکبیر، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۱۴، ۸/۵۲۱، مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۱۴، ص۸۲۶، ملتقطاً۔