گاڑیاں ، بنگلے، عہدے اور منصب ہوں اگرچہ اس کے پاس یہ سب چیزیں سود، جوئے، رشوت اور دیگر حرام ذرائع سے حاصل کی ہوئی آمدنی سے آئی ہوں اور جو شخص محنت مزدوری کر کے اور طرح طرح کی مشقتیں برداشت کر کے گزارے کے لائق حلال روزی کماتا ہواسے لوگ کمتر اور حقیر سمجھتے ہیں ۔ اللہ تعالٰی انہیں عقل ِسلیم اور ہدایت عطا فرمائے،اٰمین۔
قَالَ وَ مَا عِلْمِیْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَۚ(۱۱۲) اِنْ حِسَابُهُمْ اِلَّا عَلٰى رَبِّیْ لَوْ تَشْعُرُوْنَۚ(۱۱۳)
ترجمۂکنزالایمان: فرمایا مجھے کیا خبر ان کے کام کیا ہیں ۔ ان کا حساب تو میرے رب ہی پر ہے اگر تمہیں حِس ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: نوح نے فرمایا: مجھے ان کے کاموں کا علم نہیں ۔ ان کا حساب تو میرے رب ہی (کے ذمہ) پر ہے اگر تمہیں شعور ہو۔
{قَالَ: فرمایا۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم کو جواب دیتے ہوئے فرمایا: جن لوگوں نے میری پیروی کی ہے مجھے ان کے کاموں کا علم نہیں اور نہ ہی مجھے اس سے کوئی غرض اور مطلب ہے کہ وہ کیا پیشے کرتے ہیں ؟میری ذمہ داری انہیں اللہ تعالٰی کی طرف دعوت دینا ہے (اور وہ میں نے پوری کر دی ہے) اگر تم ان کے گھٹیا پیشوں کوجانتے ہو تو اچھی طرح سمجھ لوکہ ان کا حساب تو میرے رب عَزَّوَجَلَّ ہی کے ذمہ پر ہے، وہی انہیں جزا دے گا،تو نہ تم انہیں عیب لگاؤ اور نہ پیشوں کے باعث ان سے عار کرو۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم نے ایمان لانے والوں کے پیشے پر اعتراض کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے ایمان پر بھی اعتراض کیا اور یہ کہا تھا کہ جو لوگ آپ پر ایمان لائے ہیں وہ دل سے ایمان نہیں لائے بلکہ صرف ظاہری طور پر ایمان لائے ہیں ۔اس کے جوا ب میں حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ارشاد فرمایا: ’’میری ذمہ داری ظاہر پر اعتبار کرنا ہے باطن کی تفتیش مجھ پر لازم نہیں ، اگر تمہیں ان کے دل کا حال معلوم ہے تو جو کچھ ان کے دلوں میں ہے ا س کا ان سے حساب لینا میرے رب عَزَّوَجَلَّ ہی کے ذمہ پرہے۔(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۱۲-۱۱۳، ۳/۳۹۱، مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۱۲-۱۱۳، ص۸۲۵، ملتقطاً۔