Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
118 - 608
 کو مخلوق میں  انتہائی مقبول بنا دیا اور عقلِ سلیم اور بے مثل دانائی کا عظیم جوہر عطا فرما دیا، چنانچہ جب تعمیر ِکعبہ کے وقت حجرِ اَسوَد کو نَصب کرنے کے معاملے میں  عرب کے بڑے بڑے سرداروں  کے درمیان جھگڑا کھڑا ہو گیا اور قتل و غارت گری تک نوبت پہنچ گئی تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ان کے جھگڑے کا ایسا لاجواب فیصلہ فرما دیا کہ بڑے بڑے دانشوروں  اور سرداروں  نے اس فیصلہ کی عظمت کے آگے سر جھکا دیا اور سبھی کفار پکار اُٹھے کہ وَاللہ یہ امین ہیں  اور ہم ان کے فیصلے پر راضی ہیں ۔
 (3)…کفارِ مکہ اگرچہ رحمت ِدو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بدترین دشمن تھے مگر اس کے باوجود حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی امانت و دیانت پر کفار کو اس قدر اعتماد تھا کہ وہ اپنے قیمتی مال و سامان کو حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پاس امانت رکھتے تھے اور رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی امانت داری کی یہ شان تھی کہ آپ نے اس وقت بھی ان کفار کی امانتیں  واپس پہنچانے کا انتظام فرمایا جب وہ جان کے دشمن بن کر آپ کے مقدس مکا ن کا محاصرہ کئے ہوئے تھے۔
وَ مَاۤ اَسْــٴَـلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍۚ-اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۚ(۱۰۹) فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِؕ(۱۱۰)
ترجمۂکنزالایمان:  اور میں  اس پر تم سے کچھ اجرت نہیں  مانگتا میرا اجر تو اسی پر ہے جو سارے جہان کا رب ہے۔تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور میں  اس (تبلیغ) پر تم سے کوئی معاوضہ نہیں  مانگتا۔ میرا اجر تو اسی پر ہے جو سارے جہان کا رب ہے۔تو اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔
{وَ مَاۤ اَسْــٴَـلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍۚ: اور میں  اس پر تم سے کوئی معاوضہ نہیں  مانگتا۔} اس سے پہلی آیات میں  بیان ہوا کہ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی امانت داری کا وصف بیان کر کے لوگوں  کو اللہ تعالٰی کے عذاب سے ڈرایا اور