Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
119 - 608
اپنی اطاعت کرنے کی ترغیب دلائی اور یہاں  سے یہ بیان کیا جا رہا ہے کہ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنے لالچ و طمع سے خالی ہونے کو بیان کر کے اللہ تعالٰی کے عذاب سے ڈرایا اور اطاعت کی طرف راغب کیا،چنانچہ اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم سے فرمایا: میں  رسالت کی ادائیگی پر تم سے کوئی معاوضہ نہیں  مانگتا، میرا اجر و ثواب تو اسی کے ذمہ ِکرم پر ہے جو سارے جہان کا رب عَزَّوَجَلَّ ہے تو تم اللہ تعالٰی کے عذاب سے ڈرواور میری اطاعت کرو۔
قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لَكَ وَ اتَّبَعَكَ الْاَرْذَلُوْنَؕ(۱۱۱)
ترجمۂکنزالایمان: بولے کیا ہم تم پر ایمان لے آئیں  اور تمہارے ساتھ کمینے ہو ئے ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: (قوم نے) کہا: کیا ہم تم پر ایمان لے آئیں  حالانکہ تمہاری پیروی گھٹیا لوگوں  نے کی ہے۔
{قَالُوْۤا: بولے۔} حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم نے جواب دیا کہ کیا ہم تم پر ایمان لے آئیں  حالانکہ تمہاری پیروی ہماری قوم کے صرف گھٹیا لوگوں  نے کی ہے۔یہ بات انہوں  نے غرور کی وجہ سے کہی تھی کیونکہ انہیں  غریبوں  کے پاس بیٹھنا گوارا نہ تھا اوراس میں  وہ اپنی کَسرِشان سمجھتے تھے، اس لئے ایمان جیسی نعمت سے محروم رہے۔ کمینے اور گھٹیا لوگوں  سے ان کی مراد غریب اور پیشہ ور لوگ تھے اور انہیں  رذیل اور کمین کہنا یہ کفار کا مُتکبِّرانہ فعل تھا ورنہ درحقیقت صَنعت اور ردی پیشہ ایسی چیز نہیں  کہ جس سے آدمی دین میں  ذلیل ہو جائے۔مالداری اصل میں  دینی مالداری ہے اور نسب در اصل تقویٰ کا نسب ہے۔ یہاں  ایک مسئلہ یاد رہے کہ مومن کو گھٹیا کہنا جائز نہیں  خواہ وہ کتنا ہی محتاج و نادار ہو یا وہ کسی بھی نسب کا ہو۔(1)
 عزت و ذلت کا معیار دین اور پرہیزگاری ہے:
	اس سے معلوم ہو اکہ عزت و ذلت کا معیار مال و دولت کی کثرت نہیں  بلکہ دین اور پرہیزگاری ہے چنانچہ جس کے پاس دولت کے انبار ہوں  لیکن دین اور پرہیزگاری نہ ہو تو وہ اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں  عزت والا نہیں  اوراس کی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۱۱، ص۸۲۵۔