Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
117 - 608
ترجمۂکنزُالعِرفان: جب ان سے ان کے ہم قوم نوح نے فرمایا: کیا تم ڈرتے نہیں ؟بیشک میں  تمہارے لیے ایک امانتدار رسول ہوں ۔ تو اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔
{اِذْ قَالَ لَهُمْ: جب ان سے فرمایا۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ان کی قوم نے اس وقت جھٹلایا جب آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم سے فرمایا :کیا تم اللہ تعالٰی کے عذاب سے ڈرتے نہیں  تاکہ کفر اور گناہوں  کو ترک کر دو۔ بیشک میں  اللہ تعالٰی کی طرف سے تمہارے لئے ایک ایسا رسول ہوں  جس کی امانت داری تم میں  مشہور ہے اور جو دُنْیَوی کاموں  پر امین ہے وہ وحی اور رسالت پر بھی امین ہو گا لہٰذاتم اللہ تعالٰی سے ڈرو اور جو میں  تمہیں  توحید و ایمان اور اللہ تعالٰی کی طاعت کے بارے میں  حکم دیتا ہوں  اس میں  میری اطاعت کرو۔(1)
{رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ: امانتداررسول۔} حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی امانت داری آپ کی قوم کو اسی طرح تسلیم تھی جیسا کہ سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی امانت داری پر عرب کو اتفاق تھا۔(2)
تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شانِ امانت داری:
	سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ذاتِ گرامی میں  دیگر اَوصاف کے ساتھ ساتھ امانت و دیانت داری کا وصف بھی انتہائی اعلیٰ پیمانے پر موجود تھا اور آپ کی امانت داری کے اپنے پرائے سبھی قائل تھے اورآپ صادق و امین کے لقب سے مشہور تھے، یہاں  حضور انور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی امانت داری سے متعلق تین واقعات کا خلاصہ درج ذیل ہے جن سے آپ کی امانت و دیانت داری کی شان واضح ہوتی ہے۔ 
(1)…پچیس سال کی عمر شریف میں  سیّد العالَمین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی امانت و صداقت کا چرچا دور دور تک پہنچ چکا تھا۔آپ کے اسی وصف کی وجہ سے حضرت خدیجہ نے اپنا تجارتی سامان لے جانے کے لئے آپ کو منتخب کیا اور آپ کی بارگاہ میں  یہ عرض پیش کی کہ آپ میرا تجارت کا مال لے کر ملک ِشام جائیں ،جو معاوضہ میں  دوسروں  کو دیتی ہوں  آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی امانت و دیانت داری کی بنا پر میں  آپ کو اس کا دوگنا دوں  گی۔
(2)…نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی امانت و دیانت کی بدولت اللہ تعالٰی نے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّمَ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن،الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۰۶-۱۰۸، ۳/۳۹۱، مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۰۶-۱۰۸، ص۸۲۵، روح البیان، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۰۶-۱۰۸، ۶/۲۹۱-۲۹۲، ملتقطاً۔ 2…مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۰۷، ص۸۲۵۔