ترجمۂکنزالایمان: بیشک اس میں ضرور نشانی ہے اور ان میں بہت ایمان والے نہ تھے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک اس بیان میں ضرور نشانی ہے اور ان میں اکثرایمان والے نہ تھے۔
{اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةًؕ: بیشک اس میں ضرور نشانی ہے۔} یعنی حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا اپنی قوم کے ساتھ جو واقعہ بیان کیا گیا اس میں ان سب کے لئے عبرت کی نشانی ہے جو اللہ تعالٰی کے علاوہ اوروں کی عبادت کرتے ہیں تاکہ انہیں معلوم ہو جائے کہ قیامت کے دن ان کے یہی جھوٹے معبود ان سے بیزاری ظاہر کر دیں گے اور کسی کو کوئی نفع بھی نہیں پہنچا سکیں گے۔(1)
{وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ: اور ان میں اکثرایمان والے نہ تھے۔} یعنی جس طرح کفارِ قریش میں سے اکثر لوگ ایمان نہیں لائے اسی طرح حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم میں سے بھی اکثر لوگ ایمان نہیں لائے تھے(لہٰذا اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ کفارِ قریش کے ایمان نہ لانے پر غم نہ فرمائیں )(2)
وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠(۱۰۴)
ترجمۂکنزالایمان: اور بیشک تمہارا رب وہی عزت والا مہربان ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور بیشک تمہارا رب وہی عزت والا مہربان ہے۔
{وَ اِنَّ رَبَّكَ: اور بیشک تمہارا رب۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، بے شک آپ کا رب عَزَّوَجَلَّ ہی عزت اور غلبے والا ہے اور وہی توبہ کرنے والوں کو بخش کر اور کافروں کو مہلت دے کر مہربانی فرمانے والا ہے اور اللہ تعالٰی نے اپنی وسیع رحمت کی وجہ سے ہی کفارِ قریش کو مہلت دی تاکہ وہ ایمان لے آئیں یا ان کی اولاد میں سے کوئی ایمان لے آئے۔(3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…روح البیان، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۰۳، ۶/۲۹۱۔
2…روح البیان، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۰۳، ۶/۲۹۱۔
3…روح البیان، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۰۴، ۶/۲۹۱۔