دوستیاں کام آرہی ہیں ۔(1)
قیامت کے دن پرہیزگارمسلمانوں کی دوستی مسلمان کے کام آئے گی:
معلوم ہوا کہ قیامت کے دن نیک،صالح اور پرہیز گار مسلمانوں کی دوستی مسلمانوں کے کام آئے گی اور وہ قیامت کے انتہائی سخت ہولناک دن میں مسلمانوں کی غم خواری اور شفاعت کریں گے۔اللہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے :
’’اَلْاَخِلَّآءُ یَوْمَىٕذٍۭ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیْنَؕ‘‘(2)
ترجمۂکنزُالعِرفان: پرہیز گاروں کے علاوہ اس دنگہرے دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے۔
حضرت جابر بن عبداللہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایاکہ جنتی کہے گا: میرے فلاں دوست کا کیا حال ہے؟ اور وہ دوست گناہوں کی وجہ سے جہنم میں ہوگا۔اللہ تعالٰی فرمائے گا کہ اس کے دوست کو نکالو اور جنت میں داخل کردو تو جو لوگ جہنم میں باقی رہ جائیں گے وہ یہ کہیں گے کہ ہمارا کوئی سفارشی نہیں ہے اور نہ کوئی غم خوار دوست۔(3)
حضرت حسن بصری رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا: ’’ایماندار دوست بڑھاؤ کیونکہ وہ روزِ قیامت شفاعت کریں گے۔(4)
لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ نیک اور پرہیز گار مسلمانوں کو اپنا دوست بنائے اور فاسق و فاجر لوگوں کی دوستی سے بچے۔ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، اسے یہ دیکھنا چاہیے کہ کس سے دوستی کرتا ہے۔(5)
اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةًؕ-وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(۱۰۳)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۰۱، ۳/۳۹۰۔
2…الزخرف:۶۷۔
3…تفسیر بغوی، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۰۱، ۳/۳۳۴۔
4…خازن، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۰۱، ۳/۳۹۱۔
5…ترمذی، کتاب الزہد، ۴۵-باب، ۴/۱۶۷، الحدیث: ۲۳۸۵۔