Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
113 - 608
(2)…کافروں  کو ان کے کفر و شرک پر ڈانٹے ہوئے سختی سے کہا جائے گا کہ تمہارے وہ معبود کہا ں  ہیں  جن کی دنیا میں  تم اللہ تعالٰی کے علاوہ عبادت کیا کرتے تھے اور ان کے بارے میں  یہ گمان رکھتے تھے کہ وہ تمہاری شفاعت کریں  گے؟ کیا وہ اللہ تعالٰی کے عذاب سے بچا کر تمہاری مدد کریں  گے یا وہ اپنے دوزخ میں  ڈالے جانے کابدلہ لے سکتے ہیں ؟ سن لو! وہ ہر گز ایسا نہیں  کر سکتے۔ 
(3)…بت اور ان کے پجاری اور ابلیس کے سارے لشکر سب اوندھے کرکے جہنم میں  ڈال دیئے جائیں  گے۔ یاد رہے کہ بت جہنم میں  عذاب پانے کے لئے نہیں  بلکہ اپنے پجاریوں  کو عذاب دینے کے لئے ڈالے جائیں  گے اور ابلیس کے لشکروں  سے مراد اس کی پیروی کرنے والے ہیں  چاہے وہ جن ہوں  یا انسان اوربعض مفسرین نے کہا ہے کہ ابلیس کے لشکروں  سے اس کی ذُرِّیَّت مراد ہے۔
(4)…جب ان گمراہوں  کو جہنم میں  ڈال دیا جائے گا تو وہ جہنم میں  اپنے جھوٹے معبودوں  سے جھگڑتے ہوئے کہیں  گے ’’خدا کی قسم، بیشک ہم اس وقت کھلی گمراہی میں  تھے جب ہم تمہیں  عبادت کا مستحق ہونے میں  تمام جہانوں  کے پروردگار کے برابر قرار دیتے تھے حالانکہ تم اس کی ایک ادنیٰ، کمتر ین اور انتہائی عاجزمخلوق تھے اور ہمیں  مجرموں  نے ہی گمراہ کیا اور اب یہ حال ہے کہ ہمارے لئے کوئی سفارشی نہیں  جیسے کہ مومنین کے لئے انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، اولیائ، فرشتے اور مومنین شفاعت کرنے والے ہیں ، اور نہ ہی ایمان والوں  کی طرح ہمارا کوئی غم خوار دوست ہے جو اس مشکل ترین وقت میں  ہمارے کام آئے، پس اگرکسی طرح ہمیں  ایک مرتبہ دنیا کی طرف لوٹ کر جانا نصیب ہو جائے تو ہم ضرور مسلمان ہو جائیں  گے۔(1)
{اَلْمُجْرِمُوْنَ: مجرموں ۔} مجرموں  سے مراد وہ ہیں  جنہوں  نے بت پرستی کی دعوت دی یا وہ پہلے لوگ مراد ہیں  جن کی ان گمراہوں  نے پیروی کی یا ان سے ابلیس اور اس کی ذریت مراد ہے۔(2)
{وَ لَا صَدِیْقٍ حَمِیْمٍ: اور نہ ہی کوئی غم خوار دوست ہے۔} کفار یہ بات اس وقت کہیں  گے جب دیکھیں  گے کہ انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، اولیاء  رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ، فرشتے اور صالحین ایمان داروں  کی شفاعت کررہے ہیں  اور ان کی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تفسیرکبیر،الشعراء،تحت الآیۃ: ۹۰-۱۰۲، ۸/۵۱۸-۵۱۹، خازن، الشعراء، تحت الآیۃ: ۹۰-۱۰۲، ۳/۳۹۰-۳۹۱،
ابو سعود، الشعراء، تحت الآیۃ: ۹۰-۱۰۲، ۴/۱۶۹-۱۷۱، ملتقطاً۔
2…مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۹۹، ص۸۲۴۔