ترجمۂکنزالایمان: اور قریب لائی جائے گی جنت پرہیزگاروں کے لیے۔اور ظاہر کی جائے گی دوزخ گمراہوں کے لیے۔ اور ان سے کہا جائے گا کہاں ہیں وہ جن کو تم پوجتے تھے اللہ کے سوا کیا وہ تمہاری مدد کریں گے یا بدلہ لیں گے۔ تو اوندھا دئیے گئے جہنم میں وہ اور سب گمراہ اور ابلیس کے لشکر سارے۔ کہیں گے اور وہ اس میں باہم جھگڑتے ہوں گے۔ خدا کی قسم بیشک ہم کھلی گمراہی میں تھے۔ جب کہ تمہیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے۔اور ہمیں نہ بہکایا مگر مجرموں نے۔ تو اب ہمارا کوئی سفارشی نہیں ۔اور نہ کوئی غم خوار دوست۔ تو کسی طرح ہمیں پھر جانا ہوتا کہ ہم مسلمان ہوتے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اورجنت پرہیزگاروں کے قریب لائی جائے گی۔اور دوزخ گمراہوں کے لیے ظاہر کردی جائے گی۔ اور ان سے کہا جائے گا:وہ (بت) کہاں ہیں جن کی تم اللہ کے سواعبادت کرتے تھے؟ کیا وہ تمہاری مدد کریں گے یا کیا وہ بدلہ لے سکتے ہیں ؟ توانہیں اور گمراہوں کواور ابلیس کے سارے لشکروں کو جہنم میں اوندھے کردیا جائے گا۔وہ گمراہ کہیں گے اس حال میں کہ وہ اس میں باہم جھگڑرہے ہوں گے۔ خدا کی قسم، بیشک ہم کھلی گمراہی میں تھے۔ جب ہم تمہیں تمام جہانوں کے پروردگار کے برابر قرار دیتے تھے۔ اور ہمیں مجرموں نے ہی گمراہ کیا۔ تو اب ہمارے لئے کوئی سفارشی نہیں ۔ اور نہ ہی کوئی غم خوار دوست ہے۔ تو اگرکسی طرح ہمارے لئے ایک مرتبہ لوٹ کر جانا ہوتا تو ہم مسلمان ہوجاتے۔
{وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ: اور جنت قریب لائی جائے گی۔} حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے قیامت کے دن کی رسوائی سے بچنے کی دعا مانگنے کے بعداس دن کے کچھ اوصاف بیان فرمائے جن کاذکر اس آیت اور اس کے بعد والی 12آیات میں ہے،ان کا خلاصہ درج ذیل ہے:
(1)… قیامت کے دن جنت سعادت مندوں کے مقام سے قریب کر دی جائے گی، وہ جنت کی طرف دیکھیں گے اور اس میں موجود طرح طرح کی عظیم الشّان نعمتوں کا مشاہدہ کریں گے اور اس لئے خوش ہوں گے کہ انہیں اس میں جمع کیا جائے گا، جبکہ حق راستے سے گمراہ ہوجانے والے بدبختوں پر جہنم ظاہر کر دی جائے گی، وہ اس میں موجود طرح طرح کے ہَولناک اَحوال کو دیکھیں گے اور انہیں اس بات کا یقین ہو جائے گا کہ اب انہیں جہنم میں ڈال دیا جائے گا اور وہ کسی صورت اس سے چھٹکارا نہ پا سکیں گے۔ اللہ تعالٰی ایسا اس لئے فرمائے گا کہ ایمان والوں کو جلد خوشی نصیب ہو اور کافروں کوعظیم غم ملے۔