راہ میں خرچ کرے گا اور جو نیک اولاد چھوڑ کر مرے گا وہ مال اور اولاد اس کے کام آئے گی اور اللہ تعالٰی اپنے فضل و کرم سے مسلمان کو اس کے صدقات و خیرات کا ثواب عطا فرمائے گا۔
حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جب آدمی مرجاتا ہے تو اس کے تین اعمال کے علاوہ باقی عمل مُنقطع ہوجاتے ہیں ۔ (1)صدقہ ٔجاریہ۔(2) وہ علم جس سے لوگ نفع اٹھائیں ۔ (3) نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرے۔(1)
نوٹ:یاد رہے کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی دعا میں قیامت کے دن کی رسوائی سے جو پناہ مانگی یہ دعا بھی لوگوں کی تعلیم کے لئے ہے تاکہ وہ اس کی فکر کریں اور قیامت کے دن کی رسوائی سے بچنے کی کوشش کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں ا س کے لئے دعا بھی مانگیں ۔
وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَۙ(۹۰) وَ بُرِّزَتِ الْجَحِیْمُ لِلْغٰوِیْنَۙ(۹۱) وَ قِیْلَ لَهُمْ اَیْنَمَا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَۙ(۹۲) مِنْ دُوْنِ اللّٰهِؕ-هَلْ یَنْصُرُوْنَكُمْ اَوْ یَنْتَصِرُوْنَؕ(۹۳) فَكُبْكِبُوْا فِیْهَا هُمْ وَ الْغَاوٗنَۙ(۹۴) وَ جُنُوْدُ اِبْلِیْسَ اَجْمَعُوْنَؕ(۹۵) قَالُوْا وَ هُمْ فِیْهَا یَخْتَصِمُوْنَۙ(۹۶) تَاللّٰهِ اِنْ كُنَّا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍۙ(۹۷) اِذْ نُسَوِّیْكُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ(۹۸)وَ مَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الْمُجْرِمُوْنَ(۹۹)فَمَا لَنَا مِنْ شَافِعِیْنَۙ(۱۰۰) وَ لَا صَدِیْقٍ حَمِیْمٍ(۱۰۱)فَلَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ(۱۰۲)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مسلم، کتاب الوصیۃ، باب ما یلحق الانسان من الثواب بعد وفاتہ، ص۸۸۶، الحدیث: ۱۴(۱۶۳۱)۔