وہ اللہ کا دشمن ہے تو اس سے بیزار ہوگئے۔(1)
نوٹ:یاد رہے کہ یہاں آیت میں باپ سے مراد حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا چچا آزَر ہے حقیقی والد مراد نہیں ہیں ۔ اس کے بارے میں مزید تفصیل جاننے کیلئے سورۂ اَنعام آیت نمبر74کے تحت تفسیر ملاحظہ فرمائیں ۔
وَ لَا تُخْزِنِیْ یَوْمَ یُبْعَثُوْنَۙ(۸۷) یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّ لَا بَنُوْنَۙ(۸۸) اِلَّا مَنْ اَتَى اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍؕ(۸۹)
ترجمۂکنزالایمان: اور مجھے رسوا نہ کرنا جس دن سب اٹھائے جائیں گے۔ جس دن نہ مال کام آئے گا نہ بیٹے۔ مگر وہ جو اللہ کے حضور حاضر ہوا سلامت دل لے کر۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور مجھے اس دن رسوا نہ کرنا جس دن سب اٹھائے جائیں گے۔ جس دن نہ مال کام آئے گا اور نہ بیٹے۔ مگر وہ جو اللہ کے حضور سلامت دل کے ساتھ حاضر ہوگا۔
{وَ لَا تُخْزِنِیْ: اور مجھے رسوا نہ کرنا۔} اس آیت اوراس کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ایک دعا یہ مانگی کہ اے میرے رب ! عَزَّوَجَلَّ ، مجھے قیامت کے اس دن رسوا نہ کرنا جس دن سب لوگوں کو اٹھایا جائے گا اوراس دن نہ مال کام آئے گا اورنہ بیٹے البتہ ا س دن جو اللہ تعالٰی کے حضور کفر، شرک اور نفاق سے سلامت دل کے ساتھ حاضر ہوگا تو اسے راہِ خدا میں خرچ کیا ہو امال بھی نفع دے گا اور اس کی نیک اولاد بھی اسے نفع دے گی۔(2)
آخر ت میں مسلمانوں کو ان کے مال اور اولاد سے نفع حاصل ہو گا:
یاد رہے کہ کافر و مشرک جو مال نیک کاموں میں خرچ کرے گا آخرت میں وہ جہنم کے عذاب سے نجات دلانے اور اللہ تعالٰی کی بارگاہ سے ثواب حاصل کرنے میں اس کے کوئی کام نہ آئے گا البتہ مسلمان جو مال اللہ تعالٰی کی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…جلالین، الشعراء، تحت الآیۃ: ۸۶، ص۳۱۲-۳۱۳، مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۸۶، ص۸۲۳، ملتقطاً۔
2…مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۸۷-۸۹، ص۸۲۳، ملخصاً۔