Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
109 - 608
یَوْمَ الدِّیْنِؕ‘‘ تو اللہ تعالٰی اس کی ساری خطائیں  معاف کر دے گا اگرچہ وہ سمند رکی جھاگ سے بھی زیادہ ہوں۔اور یہ کہے: ’’رَبِّ هَبْ لِیْ حُكْمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَۙ‘‘ تو اللہ تعالٰی اسے علم و حکمت عطا فرمائے گا اور جو صالح بندے گزر چکے اور جو باقی ہیں  اسے اللہ تعالٰی ان کے ساتھ ملادے گا۔اور یہ کہے: ’’وَ اجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْاٰخِرِیْنَۙ‘‘ تو ایک سفید کاغذ میں  لکھ دیا جا تا ہے کہ فلاں  بن فلاں  صادقین میں  سے ہے،پھر ا س کے بعد اللہ تعالٰی اسے صدق کی توفیق عطا فرما دیتا ہے۔اور یہ کہے: ’’وَ اجْعَلْنِیْ مِنْ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِیْمِۙ‘‘ تو اللہ تعالٰی اس کے لئے جنت میں  مکانات اور محلات بنا دے گا۔(1)
وَ اغْفِرْ لِاَبِیْۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّیْنَۙ(۸۶)
ترجمۂکنزالایمان: اور میرے باپ کو بخش دے بیشک وہ گمراہ ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور میرے باپ کو بخش دے بیشک وہ گمراہوں  میں  سے ہے۔
{وَ اغْفِرْ لِاَبِیْۤ: اور میرے باپ کو بخش دے۔} حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ایک دعا یہ مانگی کہ اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ ، میر ے باپ کو توبہ وایمان کی توفیق عطا کر کے بخش دے بیشک وہ گمراہوں  میں  سے ہے۔ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے یہ دعا اس لئے فرمائی کہ آپ کے باپ نے جدا ہوتے وقت آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے ایمان لانے کا وعدہ کیا تھا۔ جب آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر ظاہر ہوگیا کہ وہ خدا کا دشمن ہے اور اس کا وعدہ جھوٹا تھا تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اس سے بیزار ہو گئے، جیسا کہ سور ئہ براء ت میں  ہے:
’’وَ مَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِیْمَ لِاَبِیْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِیَّاهُۚ-فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنْهُ‘‘(2)
ترجمۂکنزُالعِرفان: ابراہیم کا اپنے باپ کی مغفرت کی دعا کرنا صرف ایک وعدے کی وجہ سے تھا جو انہوں  نے اس سے کرلیا تھا پھر جب ابراہیم کے لئے یہ بالکل واضح ہوگیا کہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…در منثور، الشعراء، تحت الآیۃ: ۸۵، ۶/۳۰۶۔
2…التوبۃ:۱۱۴۔