ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے دعا مانگی کہ اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ ، مجھے ان لوگوں میں سے کر دے جنہیں تو اپنے فضل و کرم سے چین کے باغوں اورنعمت کی جنت کا وارث بنائے گا۔(1)
جنت کی دعا مانگنا حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سنت ہے:
اس سے معلوم ہو اکہ اللہ تعالٰی سے قیامت کے دن جنت ملنے کی دعا کرنا حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سنت ہے۔ حدیث پاک میں بھی جنت الفردوس کی دعا مانگنے کی تعلیم دی گئی ہے، جیساکہ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’جب تم اللہ تعالٰی سے مانگو تو اس سے جنت الفردوس کا سوال کرنا کیونکہ یہ جنت کا درمیانی حصہ اور اعلیٰ درجہ ہے، اس کے اوپر اللہ تعالٰی کا عرش ہے اور جنت کی نہریں اسی سے نکلتی ہیں ۔(2)
لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اللہ تعالٰی سے قیامت کے دن جنت الفردوس عطا ہونے کی دعا مانگا کرے۔ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اَکابر بزرگانِ دین کی طلب ِ جنت کی دعائیں درحقیقت اللہ تعالٰی کے دیدار اور ملاقات کے لئے تھیں ۔
حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی مانگی ہوئی دعاؤں کی فضیلت:
حضرت سمرہ بن جند ب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جب بندہ فرض نماز کے لئے وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے، پھر مسجد جانے کے ارادے سے اپنے گھر کے دروازے سے نکلے اور کہے: ’’بِسْمِ اللّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَنِیْ فَهُوَ یَهْدِیْنِۙ‘‘ تو اللہ تعالٰی اسے درست راستے کی ہدایت دے گا۔اور یہ کہے: ’’وَ الَّذِیْ هُوَ یُطْعِمُنِیْ وَ یَسْقِیْ‘‘ تو اللہ تعالٰی اسے جنتی کھانا کھلائے گا اور جنتی مشروبات پلائے گا۔اور یہ کہے: ’’وَ اِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ یَشْفِیْنِ‘‘ تو اللہ تعالٰی اسے شفا عطا فرمائے گا اور ا س کے مرض کو اس کے گناہوں کے لئے کفارہ بنا دے گا۔ اور یہ کہے: ’’وَ الَّذِیْ یُمِیْتُنِیْ ثُمَّ یُحْیِیْنِۙ‘‘ تو اللہ تعالٰی اسے سعادت مندوں والی زندگی کے ساتھ زندہ رکھے گا اور شہیدوں والی موت عطا فرمائے گا۔ اور یہ کہے: ’’ وَ الَّذِیْۤ اَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لِیْ خَطِیْٓــٴَـتِیْ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تفسیرکبیر، الشعراء، تحت الآیۃ: ۸۵، ۸/۵۱۶، خازن، الشعراء، تحت الآیۃ: ۸۵، ۳/۳۸۹، ملتقطاً۔
2…بخاری، کتاب الجہاد والسیر، باب درجات المجاہدین فی سبیل اللہ۔۔۔ الخ، ۲/۲۵۰، الحدیث: ۲۷۹۰۔