مراد حکمت ہے۔ قرب کے لائق خاص بندوں سے مراد اَنبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہیں ۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی یہ دعا قبول ہوئی، چنانچہ اللہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے:
’’وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ‘‘(1)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور بیشک وہ آخرت میں ہمارا خاص قرب پانے والوں میں سے ہے۔(2)
دعا مانگنے کا ایک ادب:
یہاں سے دعا مانگنے کا ایک ادب بھی معلوم ہو اکہ دعا مانگنے سے پہلے اللہ تعالٰی کی تعریف و توصیف بیان کی جائے، اس کے بعد دعا مانگی جائے۔
وَ اجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْاٰخِرِیْنَۙ(۸۴) وَ اجْعَلْنِیْ مِنْ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِیْمِۙ(۸۵)
ترجمۂکنزالایمان: اور میری سچی ناموری رکھ پچھلوں میں ۔ اور مجھے ان میں کر جو چین کے باغوں کے وارث ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اوربعدوالوں میں میری اچھی شہرت رکھ دے۔ اور مجھے ان میں سے کردے جو چین کے باغوں کے وارث ہیں ۔
{وَ اجْعَلْ: اور رکھ دے۔} حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے دوسری دعایہ مانگی کہ اے میرے رب! میرے بعد آنے والی امتوں میں میری اچھی شہرت رکھ دے، چنانچہ اللہ تعالٰی نے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو یہ عطا فرمایا کہ ہر دین والے اُن سے محبت رکھتے ہیں اور اُن کی ثناکرتے ہیں ۔(3)
{وَ اجْعَلْنِیْ: اور مجھے کردے۔} دنیا کی سعادتیں طلب کرنے کے بعد آخرت کی سعادتیں طلب کرتے ہوئے حضرت
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…البقرۃ:۱۳۰۔
2…مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۸۳، ص۸۲۳۔
3…مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۸۴، ص۸۲۳۔