وَ الَّذِیْۤ اَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لِیْ خَطِیْٓــٴَـتِیْ یَوْمَ الدِّیْنِؕ(۸۲)
ترجمۂکنزالایمان: اور وہ جس کی مجھے آس لگی ہے کہ میری خطائیں قیامت کے دن بخشے گا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور وہ جس سے مجھے امید ہے کہ قیامت کے دن میری خطائیں بخش دے گا۔
{وَ الَّذِیْۤ اَطْمَعُ: اور وہ جس سے مجھے امید ہے۔} حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے آخر میں اللہ تعالٰی کا یہ وصف بیان فرمایا کہ میں اس رب تعالٰی کی عبادت کرتا ہوں جس سے مجھے امید ہے کہ قیامت کے دن وہ میری خطائیں بخش دے گا۔ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا اللہ تعالٰی کی ان صفات کو بیان کرنا اپنی قوم پر حجت قائم کرنے کے لئے ہے کہ معبود صرف وہی ہوسکتا ہے جس کی یہ صفات ہوں ۔ یاد رہے کہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام معصوم ہیں ،اُن سے گناہ صادِر نہیں ہوتے۔ اُن کا استغفار کرنا در اصل اپنے رب تعالٰی کی بارگاہ میں عاجزی و اِنکساری کا اظہار ہے اور اس میں امت کو یہ تعلیم دینا مقصود ہے کہ وہ مغفرت طلب کرتے رہا کریں ۔(1)
رَبِّ هَبْ لِیْ حُكْمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَۙ(۸۳)
ترجمۂکنزالایمان: اے میرے رب مجھے حکم عطا کر اور مجھے ان سے ملادے جو تیرے قربِ خاص کے سزاوار ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے میرے رب !مجھے حکمت عطا کر اور مجھے ان سے ملادے جو تیرے خاص قرب کے لائق بندے ہیں ۔
{رَبِّ: اے میرے رب!} حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اللہ تعالٰی کی تعریف و توصیف بیان کرنے کے بعد دعا مانگی:اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، مجھے حکم عطا کر اور مجھے ان سے ملادے جو تیرے خاص قرب کے لائق بندے ہیں ۔ آیت میں مذکور’’ حکم‘‘ کے بارے میں مفسرین کا ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد علم ہے۔دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، الشعراء، تحت الآیۃ: ۸۲، ۳/۳۸۹، مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۸۲، ص۸۲۳، ملتقطاً۔