Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
102 - 608
ہم بتوں  کو پوجتے ہیں  پھر ان کے سامنے آسن مارے رہتے ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ان کے سامنے ابراہیم کی خبر پڑھو۔جب اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے فرمایا: تم کس کی عبادت کرتے ہو؟ انہوں  نے کہا: ہم بتوں  کی عبادت کرتے ہیں  پھر ان کے سامنے جم کر بیٹھے رہتے ہیں ۔
{وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ: اور ان کے سامنے پڑھو۔} اس رکوع میں  سیّد العالَمین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تسلی کے لئے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی قوم کا واقعہ بیان فرمایا جا رہا ہے،چنانچہ اس آیت اور اس کے بعد والی آیت میں  ارشاد فرمایا کہ اے پیارے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ کفارِ مکہ کے سامنے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا وہ واقعہ بیان کریں  کہ جب انہوں  نے اپنے (عُرفی) باپ اور اپنی قوم سے فرمایا’’ تم کس کی عبادت کرتے ہو؟ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جانتے تھے کہ وہ لوگ بت پرست ہیں ، اس کے باوجود آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا ان سے یہ سوال فرمانا اس لئے تھا تاکہ اُنہیں  دکھادیں  کہ جن چیزوں  کو وہ لوگ پوجتے ہیں  وہ کسی طرح بھی عبادت کے مستحق نہیں ۔(1)
	نوٹ:یاد رہے کہ آیت میں  باپ سے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا چچا آزَر مراد ہے۔ اس بارے میں  تفصیلی معلومات کے لئے سورۂ مریم آیت نمبر42کے تحت تفسیر ملاحظہ فرمائیں ،نیزاس واقعے کی بعض تفصیلات سورۂ اَنعام، آیت نمبر74تا83،سورۂ توبہ، آیت نمبر114، سورۂ مریم،آیت نمبر 41تا49 اور سورۂ اَنبیاء، آیت نمبر51تا 70 میں  گزر چکی ہیں ۔ 
{ قَالُوۡا: انہوں  نے کہا۔} حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے سوال کرنے پر قوم نے جواب دیا ’’ہم بتوں  کی عبادت کرتے ہیں ،اس کے بعد فخریہ انداز میں  کہنے لگے کہ ہم ان کے سامنے سار ادن جم کر بیٹھے رہتے ہیں ۔(2)
قَالَ هَلْ یَسْمَعُوْنَكُمْ اِذْ تَدْعُوْنَۙ(۷۲) اَوْ یَنْفَعُوْنَكُمْ اَوْ یَضُرُّوْنَ(۷۳)
ترجمۂکنزالایمان: فرمایا کیا وہ تمہاری سنتے ہیں  جب تم پکارو۔یا تمہارا کچھ بھلا برا کرتے ہیں ۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۶۹-۷۰، ص۸۲۲، خازن، الشعراء، تحت الآیۃ: ۶۹-۷۰، ۳/۳۸۸، ملتقطاً۔
2…ابو سعود، الشعراء، تحت الآیۃ: ۷۱، ۴/۱۶۶۔