Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
103 - 608
ترجمۂکنزُالعِرفان:  فرمایا:جب تم پکارتے ہو تو کیا وہ تمہاری سنتے ہیں ؟یا تمہیں  کوئی نفع یا نقصان دیتے ہیں ؟
{قَالَ: فرمایا۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ان سے فرمایا:جب تم ان بتوں  کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمہاری پکار سنتے ہیں ؟ یا تمہیں  عبادت کرنے پرکوئی نفع یا عبادت نہ کرنے پر کوئی نقصان دیتے ہیں ؟ جب ایسا کچھ نہیں  ہے تو تم نے انہیں  معبود کس طرح قرار دے دیا!(1)
قَالُوْا بَلْ وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ یَفْعَلُوْنَ(۷۴)
ترجمۂکنزالایمان: بولے بلکہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایسا ہی کرتے پایا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:انہوں  نے کہا: بلکہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایسا ہی کرتے پایا ہے۔
{قَالُوْا: بولے۔} جب حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی پیش کردہ دلیل کا کوئی جواب نہ بن پڑا تو کہنے لگے: ’’بت اگرچہ نہ کسی کی بات سنتے ہیں ، نہ کسی کو نفع پہنچا سکتے ہیں  اور نہ ہی کسی سے کوئی نقصان دور کر سکتے ہیں  لیکن بتوں  کی عبادت کرنے میں  ہم نے اپنے باپ دادا کی پیروی کی ہے کیونکہ ہم نے انہیں  ایسا ہی کرتے پایا ہے (اس لئے ہم آپ کے کہنے پر اپنے آباؤ اَجداد کے طریقے کو نہیں  چھوڑ سکتے۔)(2)
قَالَ اَفَرَءَیْتُمْ مَّا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَۙ(۷۵) اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمُ الْاَقْدَمُوْنَ٘ۖ(۷۶)
ترجمۂکنزالایمان: فرمایا تو کیا دیکھتے ہو جنہیں  پوج رہے ہوتم اور تمہارے اگلے باپ دادا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:  ابراہیم نے فرمایا: کیا تم نے ان (بتوں ) کے بارے میں  غور کیاجن کی تم اور تمہارے پہلے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…جلالین، الشعراء، تحت الآیۃ: ۷۲-۷۳، ص۳۱۲، خازن، الشعراء، تحت الآیۃ: ۷۲-۷۳، ۳/۳۸۹، ملتقطاً۔
2…خازن، الشعراء، تحت الآیۃ: ۷۴، ۳/۳۸۹۔