الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا تابوت شریف دریا سے نکال ملک ِشام لے گئے تھے۔(1)
وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠(۶۸)
ترجمۂکنزالایمان: اور بیشک تمہارا رب وہی عزت والا مہربان ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور بیشک تمہارا رب وہی غالب، مہربان ہے۔
{وَ اِنَّ رَبَّكَ: اور بیشک تمہارا رب۔} حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دست ِاقدس سے معجزات ظاہر ہونے کے باجود جب آپ کی قوم جھٹلاتی تو بعض اوقات آپ کا قلبِ منیر غمزدہ ہو جاتا، اس پر اللہ تعالٰی نے گزشتہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں سے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ بیان فرما کر آپ کو تسلی دی اور ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، بے شک آپ کا رب عَزَّوَجَلَّ ہی غالب اور اپنے دشمنوں سے انتقام لینے والا ہے، اس کی ایک مثال یہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے فرعون اور اس کی قوم کو غرق کر کے ان سے انتقام لیا اور اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ کارب عَزَّوَجَلَّ ایمان والوں پرمہربان ہے اور ا س کی ایک مثال یہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر ایمان لانے والوں کو غرق ہونے سے نجات دے کر ان پر مہربانی فرمائی، لہٰذا آپ اپنی قوم کی اَذِیَّتوں پر اس طرح صبر فرمائیں جس طرح پچھلے انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے صبر فرمایا۔(2)
وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ اِبْرٰهِیْمَۘ(۶۹) اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا تَعْبُدُوْنَ(۷۰)قَالُوْا نَعْبُدُ اَصْنَامًا فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِیْنَ(۷۱)
ترجمۂکنزالایمان: اور ان پر پڑھو خبر ابراہیم کی۔ جب اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے فرمایا تم کیا پوجتے ہو۔ بولے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، الشعراء، تحت الآیۃ: ۶۷، ۳/۳۸۸، صاوی، الشعراء، تحت الآیۃ: ۶۷، ۴/۱۴۶۱، ملتقطاً۔
2…روح البیان، الشعراء، تحت الآیۃ: ۶۸، ۶/۲۸۰-۲۸۱، جلالین، الشعراء، تحت الآیۃ: ۶۸، ص۳۱۲، ملتقطاً۔