کے لئے پیش ہونے سے پہلے پہلے اپنے اعمال کی اصلاح کر لے تاکہ اسے اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ سے اچھی جزا ملے۔
وَاذْکُرْ فِی الْکِتٰبِ اِبْرٰہِیۡمَ ۬ؕ اِنَّہٗ کَانَ صِدِّیۡقًا نَّبِیًّا ﴿۴۱﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور کتاب میں ابراہیم کو یاد کرو بیشک وہ صدیق تھا غیب کی خبریں بتاتا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور کتاب میں ابراہیم کو یاد کرو بیشک وہ بہت ہی سچے نبی تھے۔
{وَاذْکُرْ فِی الْکِتٰبِ اِبْرٰہِیۡمَ:اور کتاب میں ابراہیم کو یاد کرو۔} امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں: اس سورت کا (بنیادی) مقصد توحید، رسالت اور حشر کو بیان کرنا ہے اور توحید کا انکار کرنے والے وہ لوگ تھے جو اللّٰہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کو(اپنا) معبود مانتے تھے، پھر ان لوگوں کے بھی دو گروہ تھے، ایک گروہ زندہ اور عقل و فہم رکھنے والے انسان کو معبود مانتا تھا اور یہ عیسائیوں کا گروہ ہے، اور ایک گروہ بے جان اور عقل و فہم نہ رکھنے والی جَمادات کو معبود مانتا تھا اور یہ بتوں کے پجاریوں کا گروہ ہے اور یہ دونوں گروہ اگرچہ گمراہی میں مُشترک تھے لیکن دوسرا گروہ (پہلے کے مقابلے میں) زیادہ گمراہ تھا، چنانچہ اس سے پہلی آیات میں اللّٰہ تعالیٰ نے پہلے گروہ کی گمراہی بیان فرمائی اور اب یہاں سے دوسرے گروہ کی گمراہی بیان فرما رہا ہے، چنانچہ جب حضرت زکریا اور حضرت عیسیٰ عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے واقعے کا اختتا م ہوا تو گویا کہ ارشاد فرمایا ’’اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ نے حضرت زکریا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا حال ذکر کردیا اور اب حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا حال بیان کریں۔ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا حال بیان کرنے کا حکم دینے کی وجہ یہ ہے کہ تمام لوگ اس بات سے واقف تھے کہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ کی قوم اور آپ کے صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کتابوں کا مطالعہ کرنے اور پڑھنے لکھنے میں مشغول نہ تھے تو جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے یہ واقعہ کسی کمی زیادتی کے بغیر جیسا واقع ہوا تھا ویسا ہی بیان کر دیا تو یہ غیب کی خبر ہوئی اور سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ(کاغیب کی خبر دینا آپ) کی نبوت کی دلیل اور آپ کا معجزہ ہوا۔(1)
یہاں بطورِ خاص حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا واقعہ بیان کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ عرب کے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیرکبیر، مریم، تحت الآیۃ: ۴۱، ۷/۵۴۱۔