Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
97 - 695
جَنۡۢبِ اللہِ وَ اِنۡ کُنۡتُ لَمِنَ السّٰخِرِیۡنَ‘‘(1) 
(پھر ایسا نہ ہو)کہ کوئی جان یہ کہے کہ ہائے افسوس ان کوتاہیوں پر جو میں نے اللّٰہ کے بارے میں کیں اور بیشک میں مذاق اڑانے والوں میں سے تھا۔
	 اللّٰہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو اپنی اُخروی تیاری کے لئے بھرپور کوشش کرنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ وَ مَنْ عَلَیۡہَا وَ اِلَیۡنَا یُرْجَعُوۡنَ ﴿٪۴۰﴾
ترجمۂکنزالایمان: بیشک زمین اور جو کچھ اس پر ہے سب کے وارث ہم ہوں گے اور وہ ہماری ہی طرف پھریں گے ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک زمین اور جو کچھ اس پر ہے سب کے وارث ہم ہوں گے اور ہماری ہی طرف انہیں لوٹایا جائے گا۔
{اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ وَ مَنْ عَلَیۡہَا:بیشک زمین اور جو کچھ اس پر ہے سب کے وارث ہم ہوں گے۔} ارشاد فرمایا کہ جب قیامت قائم ہو گی تو اس وقت سب کچھ فنا ہو جائے گا اور میری ذات کے سوا کوئی باقی رہے گا نہ کسی کی ظاہری ملکیت باقی ہو گی( اور جب لوگوں کو زندہ کیا جائے گا تو )انہیں ہماری ہی طرف لوٹایا جائے گا اور ہم انہیں ان کے اعمال کی جزا دیں گے۔(2)
گناہگاروں کے لئے مقامِ خوف:
	اس آیت میں گناہگاروں کے لئے عظیم ڈر اور تنبیہ ہے کہ دنیامیں انہوں نے جس رب تعالیٰ کی نافرمانیاں کی ہیں اور ا س کے دئیے ہوئے اَحکامات کو پامال کیا ہے قیامت کے دن انہیں اسی کی بارگاہ میں لوٹ کر جانا ہے اور اسی کے حضور پیش ہو کر اپنے اعمال کا حساب دینا ہے اور وہ لوگوں کو ان کے اعمال کے مطابق جزا دے گا تو گناہگار لوگ اپنے اعمال کو سامنے رکھتے ہوئے ان کی جزا پر خود ہی غور کر لیں کہ وہ کیا ہو گی،اگر اللّٰہ تعالیٰ نے ان پر اپنا رحم نہ فرمایا اور ان کے گناہوں کو نہ بخشا تو انہیں جہنم کے انتہائی دردناک عذابات سہنے پڑیں گے،لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حساب
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…زمر۵۴۔۵۶۔
2…مدارک، مریم، تحت الآیۃ: ۴۰، ص۶۷۴۔