مشرکین اپنے آپ کومِلّتِ ابراہیمی کے پیروکار کہتے تھے، اس میں انہیں سمجھایا جارہا ہے کہ اگرتم ملت ابراہیمی کے پیروکار ہو توبتوں کی پوجا کیوں کرتے ہو؟ تمہارے باپ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام توبتوں کی پوجانہیں کرتے تھے بلکہ وہ تواللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کیا کرتے تھے اور اس میں کسی کوشریک نہیں ٹھہراتے تھے۔ اگرتم ملت ابراہیمی پرقائم ہو توان کے دین کواپناؤ اور بت پرستی چھوڑو۔
{اِنَّہٗ کَانَ صِدِّیۡقًا نَّبِیًّا:بیشک وہ بہت ہی سچے نبی تھے۔} آیت کے اس حصے میں حضرت ابراہیمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی صِفات بیان کی جارہی ہیں کہ آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہمیشہ سچ بولتے تھے اور نبوت کے مرتبے پر بھی فائز تھے۔ بعض مفسرین نے کہا کہ صدیق کے معنی ہیں کثیرُ التَّصدیق یعنی جو اللّٰہ تعالیٰ اور اس کی وحدانیت کی، اس کے اَنبیاء اور اس کے رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی اور مرنے کے بعد اُٹھنے کی تصدیق کرے اور اَحکامِ الٰہیہ بجالائے وہ صدّیق ہے۔(1)
یاد رہے کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے سچے ہونے کے وصف کو بطورِ خاص بیان کرنے کی یہ حکمت بھی ہوسکتی ہے کہ بعض لوگوں کو چند واقعات کی وجہ سے شُبہ ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا کلام ان مَواقع پر حقیقت کے مطابق نہیں تھا۔ ان کی تفہیم کیلئے بطورِ خاص آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو سچا فرمایا گیا۔
مقامِ صدّیق اور مقامِ نبوت میں فرق:
یہاں آیت کی مناسبت سے صدیق اور نبی میں اور صدیق اور ولی میں فرق ملاحظہ ہو، چنانچہ علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں: ہر نبی صدیق ہے لیکن اس کا عکس نہیں (یعنی ہر صدیق نبی نہیں،اسی طرح) ہر صدیق ولی ہے لیکن اس کا عکس نہیں (یعنی ہر ولی صدیق نہیں) کیونکہ صِدِّیْقِیَّت کا مرتبہ نبوت کے مرتبے کے نیچے (اور ا س کے قریب ) ہے۔(2)
اس سے معلوم ہوا کہ اَنبیاء اور رُسُلعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بعد انسانوں میں سب سے بڑا مرتبہ حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکا ہے کیونکہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اَنبیاء اور رسل عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے بعد صدیقیت کے سب سے اعلیٰ مقام پر فائز ہیں۔
اِذْ قَالَ لِاَبِیۡہِ یٰۤاَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا یَسْمَعُ وَ لَا یُبْصِرُ وَ لَا یُغْنِیۡ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، مریم، تحت الآیۃ: ۴۱، ۳/۲۳۶۔
2…صاوی، مریم، تحت الآیۃ: ۴۱، ۴/۱۲۳۷۔